کرم اور شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کے واقعات

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

قبائلی ضلع شمالی ویرستان میں شدت پسند ایک بار پھر منظم ہو رہے ہیں جہاں آج تین مختلف واقعات میں دو سیکیورٹی اہلکار شہید، دو زخمی ہوئے جبکہ دو عسکریت پسند بھی ہلاک کر دیئے گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ رزمک سب ڈویژن، تحصیل دوسلی کے علاقے گڑیوم میں دہشت گردوں اور سیکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپ ہوئی جس کے نتیجے میں افسر سمیت دو اہلکار شہید ہو گئے، شہیدوں میں کیپٹن سبیح اور سپاہی نوید شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق شہید اہلکاروں کی میتوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کا دوسرا واقع شمالی وزیرستان کے میرعلی سب ڈویژن میں پیش آیا جہاں دہشت گردوں اور سیکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپ میں دو اہلکار زخمی جبکہ دو شدت پسند مارے گئے۔

ذرائع کے مطابق جھڑپ علاقے عنایت کوٹ، سلام کوٹ اور خوشحالی میں ہوئی جس میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں میں سپاہی محمد شریف اور سپاہی ظہیر شامل ہیں، فورسز کی جوابی کاروائی میں دو دہشت گرد بھی ہلاک ہ گئے جن میں ایک اہم کمانڈر بھی شامل ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی ڈیڈ باڈیز سیکیورٹی فورسز نے اپنی تحویل میں لے لیں، زخمی اہلکاروں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

ذرائع کے مطابق دہشت گردی کا تیسرا واقع بھی شمالی وزیرستان کے میرعلی سب ڈویژن میں ہی پیش آیا جس میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر ریموٹ کنٹرول بم سے حملہ کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بائی پاس روڈ عبدالمنان کوٹ کے قریب ہونے والے حملے میں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی صورتحال مخدوش ہوتی جا رہی ہے جہاں 10 اور 11 جون کو بھی اس طرح کے واقعات میں تین سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے تھے۔

دسرے جانب ضلع کرم کے صدر مقام پاراچنار کے مزدور چوک میں دھماکے سے پولیس اہلکار سمیت دو افراد زخمی ہوگئے، پاک فوج اور پولیس نے موقع پر پہنچ کر واقعے کی تحقیقات شروع کردی۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد قریش کے مطابق پیر کی صبح پاراچنار شہر کے مزدور چوک میں اچانک زور دار دھماکہ ہوا جس پر پاک آرمی اور پولیس جائے دھماکہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو محاصرے میں لے کر واقع کی تحقیقات شروع کردی۔

دھماکہ گندگی ڈھیر میں چھپائے گئے بارودی مواد کے پھٹنے سے ہوا جس سے ایک پولیس اہلکار حامد حسین مالی خیل اور سید قیصر حسین زخمی ہوگئے جنہیں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پاراچنار پہنچا دیا گیا۔ عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ جائے دھماکہ پر سینکڑوں کی تعداد میں مزدور موجود رہتے ہیں مگر دھماکہ کے وقت مزدور کام پر جا چکے تھے اس وجہ سے زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا۔

سماجی رہنما شبیر ساجدی نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدید چیکنگ کے باوجود اس قسم واقعہ افسوس ناک ہے فورسز اور عوام کی کوششوں سے جو امن قائم ہواہے اسے سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے۔