جنوبی وزیرستان اور نوشہرہ میں 22 افراد کی خودکشی

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin
Shadow of sad man hanging suicide. light and shadow

قبائلی ضلع خیبر میں دو افراد کو قتل اور ایک خاتون زخمی کر دی گئی جبکہ جنوبی وزیرستان اور نوشہرہ میں خودکشیوں کے رجحان میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جنوبی وزیرستان میں 4 ماہ کے دوران 18 افراد جبکہ نوشہرہ میں ایک ہفتے کے دوران تین خواتین سمیت چار افراد زندگی کا خاتمہ کر چکے، جنوبی وزیرستان میں خودکشی کرنے والوں کی اکثریت نوجوانوں کی ہے، شادی کے بندھن میں زبردستی بندھی گئی لڑکیاں بھی شامل ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ضلع جنوبی وزیرستان کی تحصیل وانا میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے والدین اور عوام کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے، گزشتہ 4 مہینوں کے دوران 18 افراد نے خودکشیاں کر کے اپنی زندگیوں کا خاتمہ کر دیا، خودکشی کرنے والے افراد میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔

مقامی ڈاکٹروں کے مطابق 911 کے بعد دہشت گردی کی طویل جنگ کے باعث یہاں کے عوام انتہائی غربت کا شکار ہو گئے، کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ گئیں اور ساتھ ساتھ لوگوں کے گھر بار بھی بری طرح متاثر ہو گئے جس کے باعث شہری ڈپریشن کے شکار اور نوجوان منشیات کے عادی بن چکے ہیں اور بے روزگاری سے تنگ ہو کر لوگ خودکشیوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔

شیخہ فاطمہ ہسپتال شولام اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال سے وابستہ ڈاکٹروں کے مطابق گزشتہ چار مہینوں کے دوران ضلع جنوبی وزیرستان کے مختلف علاقوں تحصیل برمل زالئی، اعظم ورسک، کالوشہ، جے خیل سٹاپ، ڈابکوٹ، کڑی کوٹ، شولام، وچہ خوڑہ، ڈوگ، رغزائی اور تیارزہ سے تقریباً خوکشی کے 18 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں اکثر 14 سال سے لے کر 24 سال تک عمر کے لڑکے شامل ہیں، اس کے علاوہ زبردستی شادی کے بندھن میں بندھی نوجوان لڑکیاں بھی خودکشی کرنے والوں میں شامل ہیں۔

مذکورہ ڈاکٹروں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ محکمہ ہیلتھ اور وفاقی حکومت نے ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے ٹراما سنٹر کی منظوری دی تھی لیکن بدقسمتی سے آج تک ٹراما سنٹر قائم نہ ہو سکا۔

انھوں نے مذید کہا کہ زیادہ ترخودکشی کے واقعات حالیہ کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے دوران سامنے آئے ہیں۔

اس بابت مقامی لوگوں نے اعلیٰ حکام اور محکمہ ہیلتھ سے مطالبہ کیا کہ مذکورہ واقعات کی رک تھام کے لئے ہنگامی بنیادوں پر ٹراماسنٹر کا قیام عمل میں لایا جائے۔

ادھر ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں فائرنگ سے دو افراد جاں بحق جبکہ ایک خاتون زخمی ہو گئی۔

ذرائع کےمطابق تحصیل باڑہ کے علاقے نالہ ملک دین خیل میں بھائیوں کے مابین تنازعہ پر ایک بھائی نے فائرنگ کر کے دو بھائیوں کو قتل کر دیا جبکہ فائرنگ کی زد میں آ کر ایک خاتون زخمی ہو گئی جس کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

مقامی ذرائع کے مطابق صبح کے وقت نامعلوم وجوہات کی بنا پر فائرنگ کی گئی جس سے نیاز محمد اور شیر علی جاں بحق ہو گئے۔

دوسری جانب نوشہرہ میں بھی خودکشیوں کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے جہاں گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران تین خواتین سمیت چار افراد نے خودکشی کر کے اپنی زندگی کا خاتمہ کر دیا۔

پولیس کے مطابق خویشکی بالا میرہ میں والدہ کے ساتھ زبانی تکرار پر 14 سالہ ماہ نور دختر نیاز علی نے پستول سے کن پٹی پر فائر کر کے اپنی زندگی کا چراغ گل کر دیا، اضاخیل پایان کی 16 سالہ شمائلہ دختر محمد بشیر خان نے گھریلو حالات سے تنگ آ کر کیڑے مار گولیاں کھا لیں جسے تشویش ناک حالت میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور منتقل کر دیا گیا۔

اسی طرح نوشہرہ کے گاوں ترلندی میں گیارہ سالہ حنا خان دختر فقیر تاج نے والدہ سے تکرار کے بعد کچن میں دوپٹہ اپنے گلے میں ڈال کر خود کو بھانسی دے دی جبکہ گذشتہ روز نامعلوم نوجوان نے دریائے کابل میں چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی، نوجوان کی نعش کی تلاش جاری ہے۔