پٹرول بحران : ملوث کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکم

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

وزیراعظم عمران خان نے ملک میں حالیہ پٹرول بحران میں ملوث کمپنیوں کے لائسنس معطل اور منسوخ کرنے کا حکم دے دیا۔

پیٹرول بحران پر وزیراعظم کو تحقیقاتی رپورٹ پیش کی گئی جس میں بتایا گیا کہ 9 آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے جان بوجھ کر پیٹرول بحران پیدا کیا، اسٹوریج میں پٹرول ہونے کے باوجود یکم جون سے پیٹرول کی سپلائی محدود کی گئی۔

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پٹرول بحران کی ذمہ داری پٹرولیم ڈویژن پر عائد کردی۔ رپورٹ کے مطابق ڈی جی آئل ڈاکٹر شفیع آفریدی اور پٹرولیم ڈویژن افسران اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہے، 9 آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے پٹرول ذخیرہ کیا جس سے بحران پیدا ہوا۔

تحقیقاتی رپورٹ پر وزیراعظم عمران خان نے پٹرول کے مصنوعی بحران میں ملوث افراد اور کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔

وزیراعظم نے بحران میں ملوث کمپنیوں کے لائسنس معطل اور منسوخ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے حکم دیا کہ تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو 21 دن کا ذخیرہ یقینی بنانے کا پابند کیا جائے۔

یاد رہے کہ 16 جون کو وزارت پیٹرولیم کی بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی نے ابتدائی رپورٹ میں پٹرول بحران کا ذمے دار نجی تیل کمپنیوں کو قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ تینوں تیل کمپنیاں ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ میں ملوث ہیں، کسی بھی حادثے کی صورت میں بہت بڑا نقصان ہو سکتا ہے، تمام کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ایکشن لیا جائے، ان کمپنیوں کو طے کردہ معیار پر پورا نہ اترنے پرشوکاز دیا جائے اور ایک ماہ میں ان کی کارکردگی بہتر نہیں ہوتی تو لائسنس معطل کیا جائے۔