کورونا وائرس کی روک تھام کیلیے پیرامیڈیکس کے لیے تریبت کا آغاز

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

یو ایس ایڈ نے خیبر پختونخوامیں پیرامیڈیکس کے لئے انفیکشن کی روک تھام اور COVID-19 کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے کے سلسلے میں تربیت کا آغاز کردیا۔

پشاور میں امریکی قونصل جنرل مسٹر سیبرون ٹونی نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے عملے کے لئے پہلا اجلاس شروع کیا۔ اس سہولت سے مجموعی طور پر 400 پیرامیڈیکس کو فائدہ پہنچے گا۔

امریکی قونصل جنرل سیبرون ٹونی نے ” انفیکشن اینڈ کنٹرول فار کوویڈ کے عنوان پر لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے ڈاکٹروں ، نرسوں ، پیرا میڈیکس اور سپورٹ سٹاف کے لیے ایک روزہ تربیتی سیشنوں کے پہلے اجلاس کا افتتاح کیا۔ کے پی ہیلتھ کیئر ورکرز کی تعداد جن کا کورونا وائرس کا مثبت نتیجہ آیا ہے انکی تعداد 1000 تک پہنچ چکی ہے اور آنے والے دنوں میں اس میں تشویشناک حد تک اضافے کا خدشہ ہے۔

اس تربیت کے ذریعہ محکمہ صحت کے اہلکاروں کو کووڈ 19 کے مشتبہ اور تصدیق شدہ کیسوں سے بہتر طور پر نمٹنے اور انفیکشن کی روک تھام کے سلسلے میں مدد ملے گی۔ وہ یہ بھی سیکھتے ہیں کہ مریضوں کے علاج کے دوران ذاتی حفاظتی سازوسامان استعمال کرکے خود کی حفاظت کیسے کی جائے۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے عملے کے علاوہ خیبر پختونخوا میں 400 صحت کی اہلکاروں کو بھی یہ تربیت فراہم کی جائے گی۔

قونصل جنرل ٹونی نے کہا ‘ان مشکل وقتوں میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی حکومت خیبرپختونخوا کے ساتھ شراکت داری جاری رکھے گی اور مجھے یقین ہے کہ اس تعاون سے  محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے نظام میں بہتری آئے گی تاکہ اس طرح کے آفات سے نمٹ سکے’۔

 یو ایس ایڈ کے مشن کے ڈائریکٹر جولی کوین نے کہا ، "ہم نے یہ سرگرمی حکومت خیبر پختونخوا کے ساتھ مل کر ان ہیروز کی مدد کے لیے تیار کی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر اس جان لیوا وائرس کا سامنا کررہے ہیں اور اس کے خلاف لڑرہے ہیں۔ ‘یو ایس ایڈ اور حکومت خیبرپختونخوا ان بہادر مردوں اور خواتین کو COVID-19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ضروری وسائل کی فراہمی کے لئے پرعزم ہیں۔’ انہوں نے کہا۔

 لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر سلیمان خان نے کہا ، "ہم ہمیشہ COVID-19 کے معاملات سے نمٹنے والے عملے کی تربیت کی ضروریات کے بارے میں بہت دھیان سے رہے ہیں ،” ہم لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے لئے یو ایس ایڈ کی بروقت مدد کی تعریف کرتے ہیں کیونکہ اس سے جانیں بچیں گی اور صحت کی دیکھ بھال کے معیار کو بہتر بنانے میں ہمیں مدد ملے گی۔