محسن داوڑ اور وزیرستان یونیورسٹی کی حقیقت

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

 عارف خٹک

مراد سعید نے اسمبلی فلور پر برملا کہا تھا کہ محسن داوڑ جب میرے دفتر آتے ہیں تو اپنے کام نکلوانے کیلئے پیر پکڑتے ہیں اور منتیں کرتے ہیں اور جب اسمبلی فلور پر آتے ہیں تو اسٹیج اداکاروں کی طرح مائیک کے سامنے اداکاری شروع کردیتے ہیں۔ مراد سعید کے بقول محسن داوڑ نے سینکڑوں اسلحہ لائسنس اپنے پارٹنرز اور اسد داوڑ کیلئے بنوائے ہیں۔

جہاں تک وزیرستان کی یونیورسٹی کی سچائی ہے تو محسن داوڑ صاب کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ایک ڈائریکٹر صاب نے بلاکر کہا کہ خان صاب منظور شدہ یونیورسٹی کیلئے اسمبلی فلور پر فنڈ کیلئے آواز اٹھائیں تاکہ یونیورسٹی کیلئے فنڈ مختص کئے جاسکیں۔ کیونکہ شمالی وزیرستان کی کچھ فلاحی تنظیمیں اور دوسرے لوگ اس یونیورسٹی کیلئے پہلے سے ہی اپروچ کررہے ہیں مگر آپ کو بتانا اس لئے ضروری ہے کہ آپ منتخب ایم این اے ہیں۔ تب داوڑ صاب کو معلوم ہوا کہ اچھا یونیورسٹی نامی کوئی چیز بھی منظور ہوئی ہے۔

آپ کو بتاتا چلوں کہ یونیورسٹی کی منظوری سال بھر پہلے ہوئی تھی جس کی تصدیق اس وقت کے کور کمانڈر پشاور نے جرگہ پاکستان کی ٹیم کو بتایا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے وزیرستان کیلئے ایک تحفہ ہے۔ آج سادہ کاغذ پر پاکستان تحریک انصاف کی منظور شدہ یونیورسٹی کا کریڈٹ بھی موصوف خود لینے پر تل گئے ہیں۔ آپ مبارزین ان سے فقط اتنا تو پوچھ لیجیئے کہ جناب آپ نے ہی گاوں تپی کے جلسے میں فرمایا تھا کہ ادارے آپ کو کوئی بھی فلاحی کام نہیں کرنے دیتے۔ جس کی ویڈیو موجود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ قوم کو ہر دفعہ آپ نے ٹرک کے بتی کے پیچھے لگانے کی کوشش کی ہے۔

محسن داوڑ صاب تو اس بات بھی انکار کریں گے کہ میران شاہ کے 6900 دوکانوں میں سے پینتیس سے زائد دوکانیں اس کے کاروباری دوست اسد داوڑ نے اپنے نام کروائی ہیں جس میں پچاس فی صد حصہ دار محسن داوڑ صاب بھی ہیں۔ کیا محسن صاب اس بات سے انکار کریں گے؟۔

مبارزین سے درخواست ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے چھتری چھپنے والے عوامی نیشنل پارٹی کے سیاسی رہنماء مبارز اعظم جناب محسن داوڑ صاب سے فقط یہ پوچھ لیں کہ یہ سچ یا جھوٹ؟ اگر وہ چاہیں تو اس کے ناقابل تردید ثبوت یہاں اپنے وال پر چپکا دیتا ہوں۔ جیسے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ شمالی وزیرستان میں ان کے دوستوں اور رشتے داروں کی پیسوں کی ڈیل پر جتنے لوگ غیر قانونی طور پر بھرتی ہوئے تھے، اس کی ویڈیو بھی لگادی مگر محسن اور اس کے حرام خور دوستوں نے انکار کیا تو لوگوں نے مزید ثبوتوں کے انبار لگا دیئے لیکن شرم تو ان کو پھر بھی نہیں آئی۔