نانبائی ایسوسی ایشن کا روٹی کی قیمت میں 5روپے اضافے کا اعلان

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

خیبرپختونخوا نانبائی ایسوسی ایشن نے 10 جون سے 170 گرام روٹی 15روپے میں فروخت کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آٹے کی بوری میں 1400 روپے تک کا اضافہ ہوا ہے 120 گرام 10 روپے میں فروخت کرنا ہمارے لئے ناممکن ہے ۔ یہ نرخ اس وقت دیا گیاتھا جب آٹے کی بوری 3800 روپے کی تھی موجودہ دور میں اس نرخ پر روٹی بھیجنا ناممکن ہے پنجاب سے آٹے کی سپلائی پر عائد پابندی فوری طور پر ختم کی جائے۔

ان خیالات کا اظہار پختونخوا نانبائی ایسوسی ایشن کے سربراہ حاجی اقبال ضلعی صدر متول خان باچا ‘ شیرزادہ‘ چیئرمین امین اللہ خان‘ اول گل ‘ عبداللہ جان اور عبدالعزیز نے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب سے عائد پابندی فوری طور پر ختم کیاجائے کیا پشاور پاکستان کا حصہ نہیں ہے پنجاب حکومت اور مرکزی حکومت غلط پالیسیوں کے باعث خیبر پختونخوا کے نانبائی بیروزگار ہو گئے ہیں.

کورونا اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے باعث سینکڑوں نانبائی متاثر ہورہے ہیں ہوٹلز کی بندش اور سات بجے کے بعد تجارتی مراکز بند ہونے سے نانبائی متاثر ہو رہے ہیں۔ مرکزی حکومت اور پنجاب حکومت فوری طور پر آٹے کی بندش کا نوٹس لیں اور اور عائد پابندی فوری طور پر ختم کی جائے۔

نانبائی کورونا وائرس کے باعث پہلے سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ رہی سہی کسر آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ہوا ہے 2500 سے زائد نانبائی متاثر ہوئے ہیں پانچ دن کاروبار اور دو دن چھٹی ہو جبکہ سات بجے کے بعد تجارتی مراکز بند تونانبائی کیا کریں گے سب سے زیادہ ٹیکس ہم ادا کر رہے ہیں تاہم حکومت ہمیں ریلیف نہیں دے رہی ہے.

انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ نانبائی کیلئے حکومت کچھ نہیں کر رہی ہے حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث نانبائی متاثرہو رہے ہیں۔

انہوں نے حیکومت سے مطلبہ کیا ہے کہ  وہ نانبائیوں کیلئے ریٹ پر آٹا فراہم کرے  اور  آٹے کی دستیابی کو یقینی بنایاجائے اور جومعاہدہ ہمارے ساتھ انتظامیہ نے کیا ہے اس پر عملدرآمد کیا جائے اگر حکومت نے روٹی کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا تو ہم احتجاجی طور پرہڑتال کرینگے جس کی ذمہ داری حکومت پرعائد ہونگی حکومت نانبائیوں کیلئے ریلیف کے اعلان کے ساتھ ساتھ یوٹیلیٹی بل بھی معاف کرے۔

اگر ہمیں سستے داموں آٹا ملے گا تو دس روپے میں روٹی فروخت کرنے کیلئے تیار ہے تاہم اگر بوری 5000 سے تجاوز کر گئی ہے تو ہم اسی قیمت میں روٹی فروخت نہیں کرسکتے۔ کچھ لوگ کورونا میں مرجائینگے تو کچھ بھوک کے باعث مر جائینگے تاہم حکومت صرف سوشل میڈیا تک محدود ہے۔

ضلعی انتظامیہ نانبائیوں کیخلاف کارروائی کے بجائے فلور ملز کے خلاف کارروائی کرے ۔ نانبائی کو آٹا مہنگا مل رہا تو کس طرح سستے داموں آٹا فراہم کرے انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پنجاب سے عائدپابندی ختم کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرے عوام کے مشکلات کو ختم کرے گندم کا سیزن شروع ہونے کیساتھ ہی آٹے کی قیمت میں اضافہ کوئی عجیب سی بات چاہیے کہ آٹا سستا تاہم حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث آٹا مہنگا ہورہا ہے۔