ضلع انتظامیہ کی کوششوں سے ایاز وزیر کا گھرمسماری سے بچ گیا

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

جنوبی وزیرستان وانا میں ضلعی انتظامیہ، پولیس ، علماء کرام سکاوٹس فورس سیاسی وسماجی رہنماؤں کی کوشیشیں رنگ لے آئیں اور قومی جرگہ کے مشران کو اپنے موقف پر نظرثانی کرنا پڑا، جے خیل قبیلے کا عذر قبول کرکے آیاز وزیر کو معاف کردیا گیا۔

صرف 10 لاکھ جرمانہ عائد کیا گیا اور گھر کی مسماری کو قومی جرگہ کے مشران نے جے خیل قبیلے کے چار دنبے بطور عذر تسلیم کیے۔

واضح رہے ایاز وزیر کے گھر کی مسماری پر عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی قیادت کی جانب سے سخت موقف آنے کے بعد انتظامیہ اور ضلعی پولیس نے بھی بھرپور کردار ادا کیا جس وجہ سے قومی جرگہ کے مشران پر واضح کر دیاگیا اگر ایاز وزیر کے گھر کی مسماری کے متعلق فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو حکومت ان کے خلاف حرکت میں آئیگی۔

قومی جرگہ کے مشران کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کے لیے سیاسی اور سماجی کارکنان نے بھرپور کردار ادا کیا اور اس طرح سے ایاز وزیر کے گھر کی مسماری کو قومی جرگہ کے مشران نے معاف کیا جرگہ کی فیصلہ کی نظر ثانی پر وانا میں خوشی کا سماں ہے.

یاد رہے کہ جنوبی وزیرستان وانا میں احمدزئی وزیر کے قبائلی مشران نے مقامی سرکردہ سیاسی رہنما آیاز وزیر کو ہفتہ صبح 8 بجے تک گھر کو خالی کرنے کی مہلت دی تھی جس کے بعد ان کے گھر کو مسمار کیا جانا تھا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایاز وزیر پر الزام تھا کہ انہوں نے دو دن قبل وانا میں امن و امان کے حوالے سے ہونے والے احمد زئی وزیر کے جرگے کو مبینہ طور پر متنازعہ بنانے کی کوشش کی تھی۔

آیاز وزیر کے مطابق انہوں نے جرگہ کے دوران مقامی طور پر امن و امان کے قیام کو حکومت اور پولیس کی ذمہ واری قرار دیا تھا اور اس مقصد کے لئے کمیٹیاں بنانے اور انہیں اسلحہ دینے کی مخالفت کی تھی، بعض مشران کو یہ بات شاید ناگوار گزری تھی اس لئے اس انتہائی قدم کا فیصلہ کیا گیا۔

گھر کی مسماری کے لئے لشکر کشی کے اعلان کے بعد ایاز وزیر کے قبیلے جے خیل کے عمائدین گزشتہ روز احمدزئی وزیر قوم کے مشران کی خدمت میں ننواتی کے طور پر حاضر ہوئے تھے اور رسم کے مطابق 4 دنبے بھی ساتھ لائے تھے لیکن ان کی رحم کی اپیل بھی مسترد کردی گئی اور مشران نے آج صبح آٹھ بجے لشکرکشی کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

جرگہ کی جانب سے گھر کی مسماری کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر اس حوالے سے نہ صرف قبائلی مشران پر تنقید کی جا رہی ہے بلکہ انتظامیہ کو بھی آڑے ہاتھوں لیا جا رہا ہے کہ کس طرح چند افراد ایک شخص کے گھر کی مسماری کا کھلم کھلا اعلان کر رہے ہیں اور انتظامیہ ان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں کر رہی۔