پاک افغان طورخم بارڈر 24 گھنٹے تجارتی سرگرمیاں بحال

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے وزیراعظم کی ہدایت پر پاک افغان طورخم بارڈر پر 24 گھنٹے تجارتی سرگرمیاں بحال رکھنے اور ساتھ تاجروں کی مشکلات دور کرنے کے لئے سرحد پر 54 کسٹم افسران پر مشتمل عملہ تعینات کردیا ہے۔ ایف بی آر نے یہ اقدام وزیراعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے طور خم بارڈر کو تجارت کیلئے 24 گھنٹے کھلا رکھنے کے اعلان کی روشنی میں اٹھایا ہے۔

ذرائع کے مطابق طورخم بارڈر پردن رات کلیئرنگ آپریشن سے بڑی حد تک ایکسپورٹ میں اضافہ ہو گا۔ ذرائع نے بتایا کہ پاک افغان طورخم بارڈرپر کسٹمز کی چوبیس گھنٹے خدمات کا جائز ہ لینے کے لئے ایف بی آر کی ایک اعلیٰ ٹیم آئندہ چند دنوں میں طور خم بارڈر کا دورہ کرے گی۔ اس سلسلے میں سرحد پر ایک تقریب کا اہتمام بھی کیا جائیگا جس میں وفاقی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار اور ایف بی آر کی انتظامیہ شریک ہوگی۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان 29 جنوری 2019 کو ہدایات جاری کی تھی کہ 6 ماہ کے اندرطورخم بارڈر کو 24 گھنٹوں تک کھلا رکھنے کے لئے انتظامات کو یقینی بنایا جائیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ قدم دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت اور عوام کے باہمی رابطے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

ماہرین کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے اس اقدام سے پاک افغان تجارت پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ رپورٹس کے مطابق 2012 میں طورخم بارڈر کے ذریعے پاکستان اور افغانستان کے مابین سالانہ 350 ارب روپے کی تجارت ہوتی تھی جو کم ہو کر 2018 میں 120 ارب روپے تک آگئی۔