ضم اضلاع میں بھی خیبر پختونخوا لینڈ ایکوزیشن رولز 2020 کا اطلاق

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا لینڈ ایکوزیشن رولز 2020 کی منظوری دیدی، رولز کا اطلاق ضم شدہ اضلاع پر بھی ہو گا تاہم کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ضم شدہ اضلاع میں خصوصی طور پر لینڈ ایکویزیشن میں وہاں کی روایات کا حیال رکھا جائے گا، اس سلسلے میں کابینہ نے قبائلی مشران پر مشتمل قومی کمیشن بنانے کی بھی منظوری دی جو کہ لینڈ ایکویزیشن کے طریقہ کار اور اس کی خریداری میں مدد کرے گی۔

صوبائی کابینہ نے گلیات اور ضلع ایبٹ آباد کے دیگر سیاحتی علاقوں میں سیاحت کے فروغ کیلئے گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے بورڈ آف اتھارٹی کی تشکیل کی منظوری دیدی ہے۔ بورڈ آف تھارٹی 4 سرکاری، 5پرائیوٹ ممبرز اور علاقے کے 2ممبران صوبائی اسمبلی پر مشتمل ہے، بورڈ میں اپوزیشن ممبر کو بھی نمائندگی دی گئی ہے۔

صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا میں ہیریٹیج فیلڈ سکولز کے قیام کی منظوری دیدی ہے۔ اس اقدام کا مقصد آثار قدیمہ کے شعبے سے وابستہ نوجوانوں کو بہترین مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتیں صوبے کی مجموعی ترقی اور آثار قدیمہ سے مالا مال خیبر پختونخوا کی ترقی کیلئے بروئے کار لا سکیں۔

صوبائی کابینہ نے ہیلتھ کیئر کمیشن کیلئے قائم سرچ کونسل کیلئے 3 غیر سرکاری ممبران کی نامزدگی کی منظوری دیدی ہے۔ ممبران میں پروفیسر ریٹائرڈ محمد داوود خان (ہیلتھ پروفیشنل) حفظ الرحمان ریٹائرڈ بیوروکریٹ اور آسیہ خان چیئرپرسن ہوپ ویلفیئر فاؤ نڈیشن شامل ہیں۔

صوبائی کابینہ نے ہیلتھ فاؤ نڈیشن کی سرچ کونسل کیلئے عرصہ تین سال کیلئے3سرکاری ممبران کی نامزدگی کی منظوری بھی دی۔ممبران میں غلام قادر خان سابق سیکرٹری ہیلتھ(BS-21)، ڈاکٹر پروین اعظم دوست ویلفیئر فاؤنڈیشن اور پروفیسر ریٹائرڈ ڈاکٹر خالد مفتی سابقہ پرنسپل خیبر میڈیکل کالج شامل ہیں۔

صوبائی کابینہ نے KPoGDCL کیلئے 2 ڈائریکٹر کی تقرری کی منظوری بھی دی۔ نئے ڈائریکٹرز میں محمد سعید خان جدون اور شاہد کریم شامل ہیں۔

کابینہ نے خیبر پختونخوا (Prisons) ترمیمی ایکٹ 2020 کی منظوری دیدی ہے جسے بعد ازاں صوبائی اسمبلی کی منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔ ترمیم کا مقصد جیلوں کیلئے ویلفیئر فنڈ کا قیام، سکل اور ووکیشنل ڈویلپمنٹ کیلئےء جیلوں میں صنعتوں کو ریگولیٹ کرنا اور جیلوں اور قیدیوں کے تحفظ کویقینی بنانا ہے۔

صوبائی کابینہ نے ضلع کرک میں گیس کی چوری کی روک تھام اور گیس installationsکا تحفظ یقینی بنانے کیلیے دو پولیس اسٹیشنز کے قیام کی منظوری دی۔

صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن ایکٹ1972 کے مسودہ بل کی منظوری دیدی ہے جس کا مقصد بورڈ میں انڈسٹریز، ہائیر ایجوکیشن، یونیورسٹی آف انجینئرنگ، یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی وغیرہ کو نمائندگی دیناہے۔ساتھ ہی ساتھ ریجنل سطح پر دفاتر کا قیام بھی بل کے مقاصد میں شامل ہے۔

صوبائی کابینہ نے ضم شدہ اضلاع کی صوبے کے بندوبستی اضلاع کے ساتھ تیز تر عمل درآمد پروگرم(AIP) کے تحت روابط مزید مستحکم کرنے اور ضم شدہ اضلاع کی پائیدار ترقی، خوشحالی اور فلاح و بہبود یقینی بنانے کیلئے کنسلٹنٹس کی (hiring) کی منظوری دیدی ہے۔

صوبائی کابینہ نے آج خصوصی طور پر سیاحتی مقامات کیلئے ایس او پیز کی منظوری دی جن میں فیس ماسک، دستانے، سینی ٹائزر، صابن اور صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے، مہمانوں کی سکریننگ، ٹمپریچر چیک کرنا، سماجی دوری، جیسے ایس او پیز قابل ذکر ہیں۔

ایس او پیز کے تحت عوامی آگاہی کے لئے پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر مہم چلانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ مزید براں سیاحتی مقامات پر ضلعی انتظامیہ، ہوٹل انتظامیہ، ٹورازم سے متعلقہ ایسوسی ایشن پر مشتمل کمیٹیاں بھی تشکیل دی جائے گی جو ایس او پیز پر عمل در آمد یقینی بنائے گی۔

سیاحتی مقامات کو عوام کے لئے مرحلہ وار کھولا جائیگا۔ پہلے مرحلے میں Families کو اجازت دی جائے گی جبکہ دوسرے مرحلے میں بیچلرز وغیرہ کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ سیاحتی مقامات کھولنے کا حتمی فیصلہ وفاقی حکومت کی مشاورت سے کیا جائے گا۔

کابینہ نے پنجاب کی طرف سے آٹے کی ترسیل پر مسلسل پابندی کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اسے آئین کی خلاف ورزی قرار دیا۔

کابینہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور وفاقی حکومت سے اپیل کہ وہ بروقت مداخلت کرکے اس مسئلے کو حل کریں تاکہ آنے والے دنوں میں خیبر پختونخوا کے عوام کو کسی بھی قسم کے مشکل کا سامنا نہ ہو۔

کابینہ نے متفقہ فیصلہ کیا کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب حکومت صوبے کے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لئے تمام اقدامات دکھائے گی۔

کابینہ نے محکمہ خوراک کو بھی ہدایت دی کہ وہ پاسکو اور امپورٹ کے آپشنز بھی کھلے رکھے کیونکہ ہم نے عوام کو آٹے کی ترسیل ہر صورت یقینی بنانی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے خصوصی طور پر محکمہ خوراک کو ہدایت کی کہ وہ اس سلسلے میں اپنا فعال کردار ادا کریں اور مقامی طور پرگندم کی خریداری کیلئے ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے بھر پور کوششیں جاری رکھیں وزیراعلیٰ نے متنبہ کیا کا اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہم برداشت نہیں کی جائیگی۔