پشاور : کینٹونمنٹ بورڈ کا پانی آلودہ ترین قرار دے دیا گیا

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

خیبر پختونخوا میں پانی کی کوالٹی کے حوالے سے ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ شہر میں سب سے آلودہ پانی کینٹونمنٹ علاقے کا ہے جبکہ کم آلودہ یا سب سے زیادہ صاف پانی حیات آباد کا ہے۔

یہ تحقیق انعام اللہ اور محمد عالم نے نامی ریسرچرز نے  2014 میں کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کینٹونمنٹ بورڈ کے تمام علاقوں کا پانی آلودہ ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں پانی کی جتنی بھی پائپ لائنیں ہیں وہ کافی پرانی ہونے کی وجہ سے زنگ آلودہ ہیں اور پانی کے لیکج زیادہ ہیں جس سے پانی آلودہ ہو جاتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پشاور کینٹ کے بعض علاقوں میں 1947 سے پہلے جو واٹر سسٹم تھا وہی آج بھی ہے جس کا پانی استعمال کرنا کافی نقصان دہ ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ پشاور ہائی کورٹ اور صوبائی اسمبلی کے قریب گراؤنڈ واٹر کا جو سسٹم ہے وہاں نالوں کے ساتھ وہ مکس ہو گیا ہے اور وہی آلودہ پانی تقریباً پورے پشاور میں استعمال ہونے کے لئے جاتا ہے۔

کینٹونمنٹ بورڈ کے وائس پریذیڈنٹ وارث آفریدی نے کینٹونمنٹ بورڈ میں پرانی زنگ آلودہ پانی پائپ ہیں والے دعوے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر علاقے کی جتنی بھی پائپ لائنیں ہیں وہ ایک دفعہ 1997 میں اس نے تبدیل کی ہیں جبکہ دوبارہ 2015 میں تبدیل ہو چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی یو سی میں کل 52 واٹر فلٹرز ہیں، 5 وارڈز ہیں، ہر وارڈ میں 9 سے لے کر 7 تک ٹیوب ویلز ہیں اور ہر وارڈ میں 9 سے 10 کے قریب واٹر فلٹرز لگے ہیں۔

پانی آلودہ ہونے پر انہوں نے کہا کہ کینٹ ایریا وہ ہے جو ٹریک کے اندر ہے لیکن بعض علاقے جو بالکل بھی کینٹ میں شامل نہیں ہیں پھر بھی کینٹ کے ساتھ پتہ وغیرہ میں منسلک کیے جاتے ہیں جیسے سول کواٹر کینٹ، باڑہ گیٹ کینٹ، ایف سی کینٹ وغیرہ شاید وہاں پانی میں کوئی مسئلہ ہو لیکن ان کا نہیں خیال کہ جو واقعی میں صدر کینٹ علاقے ہیں وہاں پانی خراب ہو۔

کینٹونمنٹ بورڈ کے وائس پریزیڈنٹ وارث آفریدی نے اس سوال کہ کیا اب بھی باڑہ سے پانی کیںٹ آتا ہے کہ نہیں کے جواب میں کہا، بہت پہلے باڑے کا پانی آنا بند ہوا ہے، بڑی وجہ اب وہ تالاب بند ہو چکے ہیں اور ان کی جگہ پائپ لائن سسٹم نے لے لی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ کی جانب سے اب ان کے لئے مختلف جگہوں پر واٹر کوالٹی لیب قائم کی جا رہی ہیں اور ساتھ میں بائی لا بن رہا ہے جو تمام ضلعوں کے لئے ہو گا۔

گورنمنٹ کو چاہئے کہ اس کے لئے ایک ریگولیٹری باڈی بنائے جو پانی کوالٹی کے حوالے سے تمام باتوں کا خیال رکھے۔

پشاور میں پانی کے حوالے سے تحقیق میں کہا گیا ہے کہ چارسدہ روڈ دریا کابل کے قریب جتنے بھی علاقے ہیں اور خاص طور پر گل بیلہ کا پانی آلودہ ہے، اس کے علاوہ مسلم ٹاؤن ون اور ٹو، لڑمہ کا پانی بھی پینے کے قابل نہیں ہے، ان علاقوں میں پانی کی سطح 8 سے 9 فت تک ہے اور وہاں کے مقامی لوگ گھروں میں کنوؤں کے ساتھ ٹوائلٹ بھی تعمیر کرتے ہیں اور ساتھ میں گٹر بناتے ہیں جو تقریباً 6 فٹ تک گہرا ہوتا ہے جس کی وجہ سے واٹر لیول اور گٹر لیول ایک ہو جاتا ہے، گٹر کا گند پانی میں حل ہوتا ہے اور اس سے پورے علاقے کا پانی ٹیبل آلودہ ہو جاتا ہے۔

یہ آلودہ پانی لوگ کنوؤں سے نکال کر پیتے ہیں، جب بھی ان علاقوں کے پانی کا بیالوجیکل پیرا میٹر چیک کیا جاتا ہے تو پانی گندہ ہوتا ہے خاص طور پر گل بیلہ کے پانی کا بیالوجیکل کافی کنٹانیمیٹڈ ہے۔ اسد حیات نے کہا۔

انہوں نے کہا کہ حیات آباد کا پانی دوسرے علاقوں کے مقابلے میں قدرے بہتر ہے جہاں کا پائپ نظام نیا ہے اور گٹر کی تعمیرات میں بھی خیال رکھا گیا ہے کہ اس کا پانی گراؤنڈ واٹر کے ساتھ مکس نہ ہو۔

گندے یا الودہ پانی کے نقصانات

“پاکستان میں سالانہ 100 فیصد اموات میں سے 30 فیصد آلودہ پانی کی وجہ سے لاحق ہونے والی بیماریوں سے واقع ہوتی ہیں۔” حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے ڈاکٹر احمد رحمان نے کہا۔

دوسری جانب حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے ڈاکٹر احمد رحمان نے بتایا کہ گٹر سے جو پینے کا پانی آلودہ ہوتا ہے اس سے 5 بڑی عام مہلک بیماریاں ہیضہ، پیچش، ہیپٹاٹئس اے اور ای، ٹائیفائیڈ پھیلتی ہیں۔

آلودہ پانی سے کون کون سی مہلک بیماریاں پھیل سکتی ہیں اور وہ کتنی خطرناک ہوسکتی ہیں اس حوالے سے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے ڈاکٹر احمد رحمان نے کہا کہ اس سے بے شمار بیماریاں پیدا ہوتی ہیں جن میں ہیضہ، ٹائیفائیڈ، جارڈیا سز، ہیپٹاٹئس اے اور ای، ٹائی کوما، پولیو، ملیریا، سکیبی، قے اور ڈینگی جیسی بڑی بیماریاں شامل ہیں، مختلف قسم کے آرگینزم ہیں جن میں کچھ وائرس، کچھ بیکٹیریا اور کچھ پیراسائٹس ہیں، ان تینوں کا گندے پانی کے ساتھ تعلق ہے اور پاکستان میں یہ عام بیماریاں ہیں جو آلودہ پانی سے ہی پھیلتی ہیں۔

گندہ پانی پینے یا استعمال سے بچوں میں عام بیماری ڈائریا ہے اور سالانہ کافی تعداد میں بچے اس بیماری سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، خیبر پختونخوا میں ہر سال 60 فیصد بچے ڈائریا سے مر جاتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے ریکارڈ کے مطابق دنیا میں تقریباً 22 لاکھ تک لوگ آلودہ پانی سے مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر مرتے ہیں (جبکہ پاکستان میں سالانہ 30 فیصد لوگ گندے پانی سے لاحق ہونے والی بیماریوں سے مر جاتے ہیں۔)

صاف پانی، واٹر کوالٹی یا پینے کے پانی سے کیا مراد ہے اور کس پیمانے اور معیار کو ذہن میں رکھ کر پانی پر تحقیق کی جاتی ہے اس سلسلے میں پانی پر کام کرنے والے لوکل گورنمنٹ کے ادارے واٹسن سیل کے ریسرچر اسد حیات نے کہا کہ انہوں نے مختلف اضلاع میں واٹر کوالٹی پر کام کیا، پہلے تو پتہ چلے کہ واٹر کوالٹی ہے کیا اور کس پانی کی بات ہو رہی ہے، پانی مختلف ہو سکتا ہے، کہا جاتا ہے کہ یہ پینے کا، دھونے کا یا نہانے کا پانی ہے، جب بھی واٹر کواؒٹی کی بات ہوتی ہے تو پینے کا پانی مراد ہوتا ہے۔

پینے کے صاف پانی کی کوالٹی اس طرح ہو جو ڈبلیو ایچ او یا پاکستان انوائرنمٹ پروٹیکشن ایجنسی نے معیار رکھا ہے، جب بھی پانی اس معیار کا ہو اور اس سے ایکسیڈ نہ کریں تو پینے کا پانی کہلاتا ہے، پھر یہ واٹر کوالٹی مختلف پیرا میٹر پر انحصار کرتا ہے، مثلاً فزیکل، بیالوجیکل اور کیمیکل پیرا میٹر، اس سب کے لئے اپنا اپنا معیار رکھا گیا ہے۔ اسد حیات نے بتایا۔

آلودہ پانی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ پانی جس میں کہا جاتا ہے کہ بیکٹیریا ہے جب اس کا بیالوجیکل پیرامیٹر چیک کیا جاتا ہے اگر صفر ہو تو پانی کی کوالٹی اچھی ہے اگر یہ 1 تک بھی جائے تو پانی خراب ہے۔

واٹسن سیل نے مختلف ٹی ایم ایز میں واٹر لیبارٹریاں قائم کی ہیں۔ چارسدہ، تخت بائی، صوابی، چترال، دیر اور بونیر میں بنائی گئی لیبارٹریوں میں پانی ٹیسٹ کیا جاتا ہے، ٹیسٹ کے بعد پتہ چلتا ہے کہ اس تحصیل یا ضلع کا پانی کیسا ہے۔

تحقیق کرنے والے اسد حیات کے مطابق گورنمنٹ سکیم کے تحت یا ٹی ایم ایز سے جو پانی گھروں تک پہنچایا جاتا ہے ان سکیموں کے پانی کو گرمیوں میں کم از کم مہینے میں ایک مرتبہ ٹسٹ کرنا ضروری ہے جبکہ سردیوں میں اگر دو مہنے بعد بھی ہو تو ٹھیک ہے، “وجہ یہ ہے کہ گرمیوں میں مون سون کی بارش سے پانی گندہ ہو جاتا ہے، لیکن سردیوں میں درجہ حرارت کم ہونے کی وجہ سے پانی آلودہ ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔”

پانی کن طریقوں سے صاف کیا جاسکتا ہے اسد حیات نے بتایا کہ ایک تو پانی کو ابال کر پیا جائے اور ایک حل کلورینیشن ہے جس سے پانی صاف ہوتا ہے لیکن کلورینیشن کے لئے باقاعدہ ایک لیبارٹری کی ضرورت ہے جس میں ایک تربیت یافتہ بندہ تعینات ہو جو اپنے علاقے یا ضلع میں لوگوں کو پانی کے حوالے سے آگاہ کرے اور جہاں سے گندے پانی کا ٹیسٹ آتا ہو وہاں کلورینیشن کا بندوبست بھی کرے، دوسری اہم بات جن علاقوں میں پانی کی سطح بلند ہے اور گٹر کی وجہ سے پانی آلودہ ہو رہا ہے تو وہاں حکومت کو چاہئے کہ پانی کی پائپ لائن یا گورنمنٹ سکیم سے پانی دیں اگر کوئی گٹر بنائیں بھی تو پانی گندہ نہیں ہو گا۔

اسد حیات کے مطابق پانی کے گندہ یا آلودہ ہونے کا پتہ 3 چیزوں سے لگایا جا سکتا ہے، پہلے نمبر پر جس پانی سے بو آئے، دوسرے نمبر پر اس کا ذائقہ ہو اور تیسرا یہ کہ اس کا کوئی رنگ ہو تو یہ پانی آلودہ ہے کیونکہ پانی کی خصوصیت یہ ہیں کا اس کا رنگ، بو اور ذائقہ نہیں ہوتا کیونکہ انسان کی آنکھیں، ناک اور زبان اہم ڈیوائس کے طور پر کام کرتے ہیں وہ ان سے اندازہ لگا سکتا ہے کہ پانی گندہ ہے۔

احتیاطی تدابیر کے حوالے سے ڈاکٹر احمد رحمان نے کہا کہ حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرنا چاہئے جن میں ہاتھ صابن سے دھونا، نکاسی آب کا بہتر بندوبست، پانی کو ابال کر استعمال کرنا، گھر کی ٹینکی کو کچھ دنوں کے بعد چیک کرکے صاف رکھنا، فیکٹریوں اور کارخانوں سے جو بھی کیمیکل خارج ہوتا ہے اس کو اچھے اور بہتر طریقے سے ڈسپوزل کرنا یا ٹھکانے لگانا شامل ہے، کلورین سب سے اچھا اور موثر طریقہ ہے جس سے پانی صاف کیا جاتا ہے اور لوگ گندے پانی سے پھیلنے والی بیماریوں سے کافی حد تک بچ سکتے ہیں۔