پشاور اور لوئر دیر میں اوورسیز پاکستانیوں کے حق میں احتجاج

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت اوورسیز پاکستانیوں کے حوالے سے بیانات تک محدود ہے عملی طور پر کچھ نہیں کر رہی ہے، حکومت اوورسیز پاکستانیوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، ایک کروڑ سے زائد پاکستانی اس وقت ایک کرب اور اذیت میں مبتلا ہیں جبکہ وزرا آج بھی بیانات دے رہے ہیں کہ ایٹمی دھماکوں کا کریڈٹ کس کو دیں؟

اتوار کو پشاور پریس کلب کے سامنے جماعت اسلامی کے زیر اہتمام اوورسیز پاکستانیوں کے حق میں احتجاجی مظاہرے سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکمران آپس میں ریوڑیاں بانٹ رہے ہیں جبکہ وزرا نتھیاگلی میں سیر سپاٹوں میں مصروف ہیں، اوورسیز پاکستانیوں نے ہر موقع پر پاکستان سے محبت کا ثبوت دیا ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو ہر سال کثیر زرمبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں، ملک میں کوئی بھی مصبیت آتی ہے تو یہ آگے بڑھ کر اس میں حصہ لیتے اور پاکستان کی مدد کرتے ہیں، قرض اتارو ملک سنوارو ہو یا زلزلہ و سیلاب کا فنڈز ہر مشکل میں اوورسیز پاکستانی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں لیکن آج یہ کورونا وبا کی وجہ سے مشکل میں ہیں تو حکومت نے انہیں بے یار ومددگار چھوڑ دیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اس وقت پاکستانیوں کی لاشیں بیرون ممالک حجروں اور ڈیروں میں پڑی ہیں،  لاشوں سے مردہ خانے بھر گئے ہیں اور ان کو وارثین تک پہنچانے کا کوئی انتظام نہیں، اوورسیز پاکستانی گھر آنا چاہتے ہیں لیکن ان کے لیے کوئی انتظام نہیں، وفاقی اور صوبائی حکومتیں سو رہی ہیں اور سفارت خانوں تک ان کی رسائی نہیں ہے، حکومت نے ان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کردیا ہے اور 700 ریال کا ٹکٹ 3300 میں دیا جارہاہے جو شرم ناک ہے،یہ لو گ لاوارث نہیں، جماعت اسلامی اوورسیز پاکستانیوں کے لیے آواز بلند کرے گی اور ان کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔

سراج الحق نے کہاکہ ہم نے بار بار حکومت کی توجہ ان پاکستانیوں کے مسائل کی طرف دلائی لیکن حکومت نے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے،حکومت گونگی اور بہری بنی ہوئی ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ بیرون ممالک سفارت خانوں میں فعال ڈیسک کے قیام کو یقینی بنائیں جس تک ہر پاکستانی کی رسائی ممکن ہواور ان کے لیے ایمبولنس کا انتطام ہو، خصوصی فلایئٹس اور رعایتی قیمتوں پر ٹکٹس کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔

سراج الحق نے کہاکہ جماعت اسلامی نے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے اگر حکومت نے اقدامات نہ کیے تو ہم سخت احتجاج کریں گے،حکومت کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ اوورسیز پاکستان ہمارے لیے ریڑ ھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں یہ لاوارث نہیں اور جماعت اسلامی اس کے ساتھ کھڑی ہے۔

دوسری جانب لوئر دیر انجمن تاجران کمبڑ بازار ، میدان ایکشن کمیٹی اور میدان تمام عوام وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان کے اس بیان کی شدید مذمت کرتے ہیں جس میں اس نے موجودہ صورتحال میں پھنسے ہوئے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے ڈبل کرایہ یعنی دو طرفہ ٹکٹس لینے کا حکم دیا ہے. اس طرح کا اقدام ظلم اور استحصال ہے، ریاست ماں باپ کی طرح ہوتی ہے اپنے شہریوں کو لوٹنے کے بجائے ان پر رحم کیا جائے۔

مظاہرین نے مندرجہ ذیل مطالبات پیش کئے

1. کرونا ریلیف فنڈ کا خاطر خواہ حصہ سمندر پار پاکستانیوں کیلئے مختص کیا جائے۔

2. پختونخواہ اور بالخصوص ملاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے تقریباً 20 لاکھ پاکستانیوں میں سے اکثریت یومیہ اجرت پر کام کر رہے ہیں، تین مہینوں کی لاک ڈاؤن اور بیروزگاری کی وجہ سے یہ طبقہ انتہائی متاثر ہیں، ان کو خصوصی توجہ دیکر خصوصی پروازوں اور مفت ٹکٹ کا انتظام کیا جائے۔

3. خلیجی ممالک سے روزانہ کے بنیاد پر باچاخان انٹرنیشنل ائیرپورٹ کیلئے پروازوں کو بحال کیا جائے، صرف PIA نہیں بلکہ دیگر فضائی کمپنیز کی خدمات بھی حاصل کی جائیں۔

4. لاک ڈاؤن سے متاثرہ اوورسیز پاکستانیوں کے اہلخانہ کی مالی معاونت کی جائے۔

5. پاکستانیوں کی جو 140 میتیں اس وقت سعودی عرب کے مردہ خانوں میں پڑی ہیں ان کو فوری طور پر وطن لانے کیلئے انتطامات کئے جائیں۔

6. پاکستانی سفارتخانوں اور قونصل خانوں کے آوقات کار کا دائرہ 24 گھنٹے تک بڑھایا جائے تاکہ ان ایمرجنسی حالات میں اپنے شہریوں کو بروقت طبی امداد، قانونی امداد ، راشن اور فوڈ پیکجز کی فراہمی یقینی بنایا جا سکے۔