خیبرپختونخوا کے سنیما ہالز عید کے موقع پر کھولے جائیں

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

خیبرپختونخوا حکومت نے لاک ڈاؤن سے متاثرہ مختلف صنعتوں کے لئے ریلیف پیکج کے اعلان کے بعد اب عید کی آمد پر لاک ڈاؤن میں نرمی کرکے پبلک ٹرانسپورٹ اور مختلف صنعتیں کھولنے کا اعلان بھی کردیا ہے لیکن ان دونوں سہولیات کا سنیما انڈسٹری کو کوئی فائدہ نہیں ملا ہے جس پر سینیما مالکان نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

خیبر پختونخوا سینما مالکان کے اجلاس کے بعد سینما مالکان کے نمائندوں و معروف ہدایتکار  ارشد خان  صالح محمد جواد خان حبیب  اور دیگر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لئے دو ماہ کے لاک ڈائون کے بعد اب نرمی کرتے ہوئے نہ صرف بازار کھول دئیے گئے ہیں بلکہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی شروع کردی گئی ہے۔

لاک ڈائون کی وجہ سے دو ماہ سے زائد عرصہ سے سینماگھر بند پڑے ہیں جس کی وجہ سے اس صنعت سے وابستہ افراد شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔

حکومتی امداد میں بھی سینما صنعت سے وابستہ افراد کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔ اس لئے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہ احتیاطی تدابیر اور ایس او پیز کے ساتھ  سینماگھروں کو کھولنے کی اجازت دی جائے تاکہ ہم بھی اپنے بچوں کیلئے رزق کماسکیں کیونکہ لاک ڈائون کی وجہ سے سینماگھروں کے سینکڑوں ملازمین شدید مشکلات سے دوچارہیں۔

انہوں نے کہا کہ کوروناوائرس کے باعث لاک ڈائون میں نرمی کے بعد تاحال سینما ہالوں  کو کھولنے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا جاسکا جس کی وجہ سے پشتو سینما انڈسٹری شدید مالی بحران کا شکا ر ہو گئی ہے، اکثریت سینما مالکان کے پاس ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے پیسے بھی نہیں ہیں۔

سینما مالکان نے حکومت سے دیگر شعبوں کی طرح   سینما انڈسٹری کے لِئے ریلیف پیکج کا مطالبہ کرتے ہو کہا کہ مارچ میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے  سینما ہالز بند پڑے تھے، سینما مالکان کا کروڑوں روپے کا نقصان ہو گیا ہے.

حکومت نے متاثرہ شعبوں کے لئے ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے لیکن سینما انڈسٹری کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا ہے اس لئے حکومت فوری طور ریلیف پیکج کا اعلان کر کے ایس او پیز کے تحت سینما گھروں کو کھولنے کا اعلان کریں .

انہوں نے پہلے سے زبوں حال سینما کی صنعت کو مزید ڈوبنے سے بچانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس موقع پر پشتو فلموں کےاداکار شاہد خان ہدایتکار عابد نسیم اور دیگر موجود تھے۔