ڈی آئی خان کے لیے چاند رات اور عید کا سکیورٹی پلان جاری

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

چاند رات اور عید الفطر کے ایام میں ہوائی فائرنگ اور آتش گیر مادوں کی سخت ممانعت ہے اور مزید اسی حوالے سے تمام ایس ڈی پی اوز اور دونوں اضلاع کے تمام ایس ایچ اوز کو سختی سے اس پر عمل درآمد کرنے کی تلقین کی گئی ہے

ریجنل پولیس آفیسر ڈیرہ فلائیٹ لیفٹیننٹ (ر) محمد امتیاز شاہ نے ڈیرہ اسماعیل خان ریجن کے ضلعی پولیس سربراہان کو احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ کہ جس علاقہ سے ہوائی فائرنگ کی اطلاع موصول ہوئی اس تھانہ کے ایس ایچ او کے خلاف سخت ایکشن لیاجائے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ عید الفطر کی سکیورٹی کے حوالے سے تینوں اضلاع کے ڈی پی اوز کو باضابطہ سکیورٹی پلان مرتب کرنے کے احکامات جاری کئے گئے جس میں تمام عید کے اجتماعات کی سکیورٹی کو فول پروف رکھا گیا ہے جبکہ عید گاہوں کی بم ڈسپوزل یونٹ کے ذریعے سوئیپنگ کرائی جائے گی۔

مزید اسی حوالے سے شہر کی بیرونی ناکہ بندیوں کو سختی سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ شہر میں داخل ہونے والی ہر چھوٹی بڑی گاڑیوں کی اور تمام افراد کی کڑی نگرانی کی جائے اور مشکوک افراد کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جاکر قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔

انہوں نے  عید کے آیام میں شہر کے سکیورٹی کے حوالے سے پولیس چیک پوسٹوں اور موبائل و ایگل اسگواڈ کی گشت کو بڑھایا گیا ہے اور ٹریفک کی روانی کو بحال رکھنے کے لیے موثر اقدامات عمل میں لائے گئے ہیں۔

خصوصا مین بازاروں میں گاڑیوں کی آمد ورفت کے لیے متبادل راستوں کے بندوبست کرنے کی ہدایت کی گئی ہیں اور چاند رات تک ڈیرہ شہر کے چاروں بازاروں میں چنگ چی اور آٹورکشہ کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔

عید الفطر کے آیام میں امن و عامہ کی کو بحال رکھنے جرائم پیشہ افراد کی سر کوبی اور مشتبہ افراد پر کڑی نگاہ رکھنے کے لیے سکیورٹی پلان میں مساجد،امام بارگاہوں پر نفری کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے اس کے علاوہ شہر میں پولیس کی پیدل گشت پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

آخر میں ریجنل پولیس آفیسر ڈیرہ محمد امتیاز شاہ نے عوام الناس کو بھی ہوائی فائرنگ سے گریز کرنیکی تلقین کرتے ہوئے کہا اس عمل سے کوئی بھی جانی نقصان ہو سکتاہے اور کسی کی خوشیاں آپ کے غیر قانی عمل سے ماند پڑ سکتی ہے اور ایسے عمل سے ہمشہ گریز کرنا چاہیے جس سے آپ کا مذہب اور قانون دونوں آپ کو روکتے ہوں او ر ایسے افراد کے خلاف بھرپور قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی جن کے باعث شہر میں نقص امن کا خطرہ ہو۔