دنیا بھر میں شہد کی مکھیوں کا عالمی دن آج منایا جائے گا

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

پاکستان سمیت دنیا بھر میں شہد کی مکھیوں کا عالمی دن آج منایا جائے گا۔ اس دن کے منانے کا مقصد شہد کے حصول کیلئے شہد کی مکھیوں کی افزائش کی جانب توجہ مبذول کروانا ہے۔

ماہرین کے مطابق شہد کی مکھیوں کی کمرشل بنیادوں پر افزائش اور فارم کرکے بھاری زر مبادلہ کمایا جا سکتا ہے، اس سے نہ صرف بہترین شہد کی پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ شہد جیسی قدرتی نعمت سے معاشی استحکام بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ تقریباً پچاس ساٹھ سال قبل یورپ میں جدید مگس بانی کا آغاز ہوا اور جدید مگس بانی کے ذریعے شہد کی پیداوار کیلئے جدید صنعت کی بنیاد رکھ دی گئی اور پہاڑی ڈھلوانوں کے بجائے مکھیوں کیلئے جدید بکس ایجاد ہوئے۔

اس حوالے سے مولانا خانزیب کہتے ہیں کہ شہد کی مکھی انسانی فائدے کے لئے مصروف عمل ہوتی ہے مگر انسان اپنی کوتاہیوں سے اس کی نسل اور خوراک کو ختم کرنے کے درپے ہے، حکومت کو چاہئے کہ وہ ایسے درخت لگائے جو ماحول کو سرسبز بنانے کے ساتھ ساتھ مکھیوں کی ضروریات کو بھی پورا کریں، پہلے سے موجود ان مخصوص درختوں کی کٹائی پر سخت پابندی لگائی جائے جن سے شہد حاصل کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اسی طرح پولیس کی طرف سے فارمز مالکان کو مکھیوں کے نقل و حمل کے دوران تنگ کیا جاتا ہے، ان سے پیسے لئے جاتے ہیں جبکہ کچھ کو مکھیوں کے نقل و حمل کے دوران چیک پوسٹوں پر کئی کئی گھنٹوں تک روکے رکھا جاتا ہے جس سے کسی غریب پختون کے پورے فارم کے تباہ ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ آزاد کشمیر اور ملک کے کچھ دوسرے علاقوں میں شہد کے فارمز کو جانے نہیں دیا جاتا کیونکہ ان علاقوں میں پختونوں کو مشکوک تصور کیا جاتا ہے جو بڑی تشویشناک بات ہے۔

مولانا کے مطابق کافی عرصہ سے شہد کا بیشتر کاروبار خلیجی ممالک کے ساتھ ہوتا تھا مگر کچھ عرصہ سے وہاں پر امن وامان کی مخدوش صورتحال نے اس کاروبار پر بھی برا اثر ڈالا ہے لہذا حکومتی طور پر شہد کی برآمدات کیلئے نئی منڈیاں تلاش کی جائیں جن میں یورپ اور وسطی ایشیاء کی شکل میں ایک بہت بڑی منڈی موجود ہے مگر پاکستان سے یورپ تک پہنچنے میں بہت مشکلات حائل ہیں، اگر افغانستان کے راستے یہ سہولت مہیا کی جائے تو ملک کے ساتھ اس کاروبار سے وابستہ افراد کا بھی بھلا ہوگا۔ ”قرآن میں اللہ تعالی فرماتا ہے، شہد میں ہم نے شفا رکھی ہے۔” مصنوعی خوراکوں کے بجائے قدرتی شہد کو اپنی غذا کا حصہ بنائیں کیونکہ پشاور کی انٹرنیشنل ہنی مارکیٹ میں آپ کو ہر طرح کا بہترین شہد ملے گا۔

واضح رہے کہ اس دن کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے آج مگس یونین کی طرف سے پشاور پریس کلب کے سامنے واک کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔