وزیرستان میں ایک دفعہ پھر بچوں کے ہاتھوں سے قلم چھین لئے گیا

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

پہلے بدامنی، پھر فوجی آپریشن کی وجہ سے نقل مکانی اور پھر گھروں کو واپسی کے بعد تعلیمی اداروں کی تباہ حالی نے پہلے ہی وزیرستان کے بچوں کے کئی تعلیمی سال ضائع کئے ہیں لیکن اب کورونا نے ملک کے دوسرے علاقوں کی طرح ان بچوں کے ہاتھوں سے ایک بار پھر قلم چھین لئے ہیں۔

یہ کہنا ہے شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے مقامی شخص واجد کا۔ واجد کا کہنا ہے کہ ‘ہمارے علاقےمیں کئی سال بدامنی کی وجہ سے طلباء کا قیمتی وقت ضائع ہوا اور اب رہی سہی کسر کورونا وائرس نے پوری کردی ہے، شمالی وزیرستان میں تعلیم کا بیڑا غرق ہے’

واجد نے ٹرائبل پریس  کے ساتھ خصوصی بات چیت کے دوران کہا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے بعد لاکھوں لوگوں نے نقل مکانی کی جس کی وجہ سے ان کے بچوں کا کافی وقت ضائع ہوا اور جب بندوبستی علاقوں کو گئے تو وہاں بھی ایک جگہ ٹک نہ پاتے کیونکہ یا تومالک مکان کرایہ بڑھادیتے اور یا خود ایک سے دوسری جگہ منتقل ہونا پڑتا تو ایسے میں بچے پڑھائی پر توجہ نہیں دے سکتے تھے۔

واجد نے مزید کہا کہ شمالی وزیرستان آنے کے بعد بھی طلباء صحیح سے پڑھ نہیں پارہے تھے کیونکہ کچھ سکول تباہ حال پڑے ہیں جبکہ جو ٹھیک ہے وہاں بھی اساتذہ غیرحاضر ہوتے ہیں اور کچھ سکولوں میں تو سرے سے اساتذہ ہے ہی نہیں۔

میرانشاہ سے تعلق رکھنے والے طالبعلم عامر خان نے بھی واجد کے ساتھ اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن کے دوران نقل کی مکانی کی وجہ سے کئی طلباء نے تعلیم کو ادھورا چھوڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اب کورونا کی وجہ سے ان کے علاقے میں تعلیمی ادارے بند کیے گئے ہیں تو وہ بہت مایوس ہوگئے ہیں کیونکہ شمالی وزیرستان کے طلباء ملک کے باقی اضلاع سے مختلف ہیں کہ ان کے کئی سال بدامنی اور نقل مکانی کی وجہ سے بھی ضائع ہوئے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ ان کا مزید وقت ضائع ہو۔

واجد نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں طلباء کے پاس نہ تو انٹرنیٹ کی سہولت ہے اور نہ ہی باقی اور کوئی سہولت جس کی وجہ سے وہ اپنا تعلیمی سلسلہ آن لائن جاری رکھ سکے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شمالی وزیرستان کے سکولوں کی حالت بہتربناکر یہاں تعلیم کے لیے خصوصی اقدامات کریں اور ٹیوشن سنٹرز بنائے جائے کہ آجکل تعلیم کا دورہے اور تعلیم کے بغیر کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔

میرانشاہ سے تعلق رکھنے والے سی ٹی ٹیچرکامران نے اس حوالے سے بتایا کہ شمالی وزیرستان کے لوگ بہت غریب ہیں اور وہ نہیں کرسکتے کہ پرائیویٹ سکولوں میں بچوں کو داخل کریں جبکہ بدامنی کے دوران بھی 90 فیصد بچوں کا وقت ضائع ہوا ہے کیونکہ مسائل کی وجہ سے وہ پڑھ نہیں پائے۔

انہوں نے بتایا کہ آپریشن کے بعد شمالی وزیرستان میں تعلیمی سلسلہ بحال ہونا شروع ہوا تھا کہ اس دوران کورونا وائرس آگیا اور ایک مرتبہ پھر تعلیمی سلسلہ رک گیا جس کی وجہ سے طلباء گھر پربیٹھ گئے۔ انہوں نے طلباء سے اپیل کی ہے کہ وہ گھروں میں رہ کر اپنی پڑھائی کریں تاکہ ان کا مزید وقت ضائع نہ ہو۔

دوسری جانب اس حوالے سے بات کرتے ہوئے شمالی وزیرستان کے اسسٹنٹ ایجوکیشن افسر فدا وزیر نے بتایا کہ حکومتی احکامات کی روشنی میں انہوں نے اپنے ضلع میں بھی تعلیمی اداروں کو بند کیا ہوا ہے لیکن یہاں انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے طلباء کے لیے آن لائن کلاسز لینا ناممکن ہے۔

انہوں نے بھی تسلیم کیا کہ آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے طلباء کا کافی وقت ضائع ہوا کیونکہ باقی علاقوں میں ان کو وہ سہولیات نہ مل پائی جو ملنی چاہئے تھی اور یوں ان کا تعلیمی سلسلہ رک گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ بدامنی کے دوران شمالی وزیرستان میں تعلیمی ادارے تباہ ہوئے تھے تاہم ان میں بہت سارے ادارے فعال ہوگئے ہیں اور وہاں تعلیمی سرگرمیاں بھی جاری تھی تاہم اب کورونا کی وجہ سے سارے تعلیمی دارے بند ہے۔

فدا وزیر نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں سکولوں کی کل تعداد 909 ہے جن میں سے 479 لڑکوں کے اور 421 لڑکیوں کے ہیں جبکہ ان سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کی تعداد 70363 ہے۔

واجد سے اختلاف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضرب عضب آپریشن کے دوران شمالی وزیرستان میں 54 سکول مکمل طور پرجبکہ 147 سکول جزوی طور پرتباہ ہوئے تھے جن میں سے زیادہ ترکو یا تو دوبارہ بنالیا گیا ہے یا ابھی ان پرکام جاری ہے۔ فدا وزیر کے مطابق اگر کہیں ایک دو سکول دوبارہ بننے سے رہ بھی گئے ہو تو ان کو آئندہ اے ڈی پی میں شامل کیا جائے گا تاکہ دوبارہ بن جائے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ البتہ شمالی وزیرستان کے کچھ علاقوں کو ابھی ٹی ڈی پیز کی واپسی نہیں ہوئی جن میں دتہ خیل، شوال، مداخیل وغیرہ شامل ہیں تو وہاں 22 سکول ہیں جس کے حوالے سے ابھی پتہ نہیں ہے کیونکہ وہ علاقہ بند ہے جبکہ ان ٹی ڈی پیز بچوں کے لیے کیمپوں میں پڑھائی کا بندوبست کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں مارچ  میں کورونا وائرس پھیلنے کے بعد حکومت نے تعلیمی اداروں کو بند کیا اور چند روز قبل وزیر تعلیم شفقت محمود نے اعلان کیا کہ اب تعلیمی اداروں کو 15 جولائی تک بند رکھا جائے گا۔

حکومت نے بچوں کا وقت بچانے کے لیے ٹیلی سکول اور آئن لائن کلاسز کا اجراء کیا ہے تاہم قبائلی اضلاع میں انٹرنیٹ اور نیٹ ورک کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے طلباء ٹیلی سکول اور آئن لائن کلاسز سے استفادہ حاصل نہیں کرپارہے۔