غلام خان بارڈر کے لئے بھی طورخم اور چمن کی طرح پالیسی بنانی چاہئے

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

شمالی وزیرستان کے ٹرانسپورٹرز نے افغانستان میں پھنسے ساتھی ٹرانسپورٹروں کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے اور اس سلسلے میں میں کھجوری کے مقام پر روایتی طریقے سے ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے ہوئے احتجاج بھی کیا۔

ٹرانسپورٹرز نے سب ڈویژن میرعلی کے  کھجوری چیک پوسٹ کے قریب ٹائر جلاکر روڈ کو  ہر قسم ٹریفک کیلئے بند کردیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ کورونا وباء  کے باعث پاک افغان غلام خان بارڈر بند ہونے کی وجہ سے دو سو سے زائد پاکستانی ڈرائیورز حضرات افغانستان میں محصور ہیں۔

دو ماہ مکمل ہونے کو ہیں لیکن اس کے باوجود ڈرائیوروں کو پاکستان آنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہیں جس سے ان کے خاندان کافی پریشان ہیں کیونکہ عیدالفطر بھی قریب ہیں۔

مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ چمن اور طور خم بارڈرز کی پالیسی کے تحت غلام خان باڈر بھی ان ڈرائیوروں کے لئے کھول دیا جائے اور اگر مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا تو غلام خان بارڈر کھولنے تک ان کا احتجاج جاری رہے گا۔

خیال رہے کہ 16 مارچ سے طورخم بارڈر کی بندش کی وجہ سے بھی کئی پاکستانی ٹرانسپورٹرز افغانستان میں اور افغانی پاکستان میں پھنس گئے تھے لیکن بعد میں وفاقی حکومت نے ان کی واپسی کے لئے منصوبہ بندی کرلی ہے جس کے تحت وہاں سے آنے والے افراد کے لئے خیبر میں قرنطینہ سنٹرز بنائے گئے ہیں اور جہاں پر ان کے سکریننگ کی جاتی ہے اور متاثری افراد کو وہی پر ہی علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جاتی ہے۔