خیبر پختونخوا اسمبلی میں اوورسیز کے حوالے سے قرارداد پیش

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

کورونا وبا کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال میں اوورسیز پاکستانیوں بالخصوص خلیجی ممالک میں رہنے والوں کے ساتھ غیر مناسب سلوک کے خلاف خیبر پختونخوا اسمبلی میں قرارداد پیش کر دی گئی۔

قرارداد میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ خلیجی و دیگر ممالک میں لاکھوں کی تعداد میں اوورسیز پاکستانیوں کے کورونا وباء کے اس سخت اور نازک حالات میں واپسی کیلئے انتہائی ناقص انتظامات کئے گئے ہیں، جبکہ ائیرٹکٹس میں بھی انہیں لوٹا جا رہا ہے۔ ان غریب محنت کشوں کو مہنگی ترین ائیرٹکٹس بیچی جا رہی ہیں، ٹکٹ کے حصول کیلئے سفارش کروانا بھی ضروری ہوچکا ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں، جو باہر ممالک میں پاکستان کے سفیر ہیں اور ماہانہ اربوں روپے زرمبادلہ ملک کیلئے کما رہے ہیں۔ اس تمام صورتحال میں وزارت خارجہ خاموش تماشائی ہے، ان لاکھوں محنت کشوں کو پی آئی اے حکام، سفارتی عملہ اور وزارت کے ذمہ دار مشترکہ طور پر لوٹ رہے ہیں۔

قرارداد کے متن کے مطابق یہ سب کچھ کھل عام ہو رہا ہے، روزانہ اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ ہونیوالی یہ زیادتی سوشل میڈیا کی زینت بنی ہوتی ہے۔

دوسری جانب باچا خان انٹرنیشنل ائیر پورٹ کو بند کر دیا گیا ہے اور انکی واپسی پشاور کے علاوہ دیگر ائیرپورٹس پر ارادتاً کرائی جا رہی ہے، تاکہ وہاں پرائیویٹ ہوٹلز ان سے بھاری کرایے وصول کرسکیں۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ مصیبت اور مشکل کے ان حالات میں اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ یہ سلوک انتہائی نامناسب اور ناروا ہے۔ وزارت خارجہ، سفارتی عملہ اور مرکزی حکومت نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے، لاکھوں محنت کش اپنے وطن کیلئے رُل گئے ہیں۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مرکزی حکومت سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور اوورسیز کے مسائل و مشکلات کو حل کرے۔