پاکستانی میں پلازما تھراپی کا پہلا مریض مکمل صحتیاب

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

پاکستان کے معروف ہیماٹولوجسٹ نے پلازما تھراپی کے زریعے کورونا وائرس کے مریض کی علاج کا پہلا کلینیکل ٹرائل کامیاب ہونے کا دعوا کیا ہے اور کہا ہے کہ اس طریقہ علاج سے پہلے مریض میں کورونا وائرس کے خلاف قوت مدافعت فعال کردی گئی ہے ۔

خون کے امراض کے قومی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر طاہر شمسی نے کہا ہے کہ اس طریقہ علاج سے پہلا مریض صحتیاب ہوکر ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ حکومت نے کلینکل ٹرائلز میں 350 مریضوں کا پلازما تھراپی سے علاج کا ہدف مقرر کیا ہے جس کے تحت متعدد مزید کا بھی اس کے تحت علاج جاری ہے۔

ڈاکٹر طاہر شمسی کے واضح کیا کہ فی الوقت یہ صرف کامیاب کلینکل ٹرائل ہے جب کہ اس سٹیج پر اس پلازما تھراپی کو کورونا وائرس کی تصدیق شدہ طریقہ علاج قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ اس کے ہے ہمیں مزید کئی کلینیکل ٹرائلز کی کامیابی درکار ہوگی۔

پلازما تھراپی میں کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے والے فرد کے خون کے پلازما اکٹھا کرکے اسے ایک خاص طریقے سے دوسرے متاثرہ مریض میں منتقل کیا جاتا ہے جس سے ان میں اس بیماری کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہونے کی امید ہوتی ہے۔

ڈاکٹر شمسی نے کہا کہ پلازما تھراپی کوئی نیا طریقہ علاج نہیں اور پچھلے 125 سالوں سے اس کے زریعے مختلف بیماریوں کے علاج ہو رہے ہیں۔ ماضی قریب میں یہ تھراپی سارس، ایبولا اور انفلوئنزا کے مریضوں پر بھی ازمائی گئی تھی۔

کورونا وائرس کے خلاف یہ طریقہ علاج دینا کے 80 ممالک کے 1500 ہسپتالوں میں بھی ازمایا جا رہا ہے جب کہ پاکستان کے حکومت نے بھی اس کے لئے ڈآکٹر طاہر شمسی کی سربراہی میں ہیماٹولوجسٹس کی ایک ٹیم تشکیل دی ہے۔