مصالحتی جرگہ ناکام، اکاخیل اور بیزوٹ کے درمیان کشیدگی

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

قباٸلی ضلع خیبر کے قبیلہ اکاخیل اور اورکزئی کے بیزوٹ قبیلے کے درمیان فائر بندی (تیگہ) کیلئے مصالحتی جرگہ کے مذاکرات ناکام ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق قبیلہ اکاخیل نے موقف اختیار کیا ہے کہ جب تک ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جاتا اس وقت تک تیگہ نہیں ہو گا۔

خیال رہے کہ اورکزئی قبیلہ کے بیزوٹ اور ضلع خیبر تحصیل باصہ کے اکاخیل قبیلے کے درمیان زمین کے تنازعہ شاڈلہ جس میں دو افراد جان بحق ہو چکے ہیں۔

دونوں قبیلے کے درمیان فائربندی کیلئے سابق ممبر قومی اسمبلی الحاج شاہ جی گل کی سربراہی میں جرگہ منعقد ہوا جس میں اورکزئی قبیلے کی نمائندگی ممبر صوبائی اسمبلی حاجی غزن جمال اور سابق امیدوار صوبائی اسمبلی حبیب نور نے کی اور اکاخیل قبیلے کی جانب سے ممبر صوبائی اسمبلی حاجی شفیق آفریدی، سابق قومی اسمبلی کے امیدوار حاجی جہانگیر آفریدی اور اکاخیل قومی کونسل کے میڈیا کوارڈینیٹر سہیل احمد نے کی جبکہ جرگہ میں شاڈلہ زمین پر دعویداری کرنے والے تیسرے فریق ذخہ خیل نے بھی سابق امیدوار قومی اسمبلی حاجی شیرمت خان کی نمائندگی میں شرکت کی۔

اس سلسلے میں تفصیلات بتاتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی حاجی شفیق آفریدی نے کہا کہ مصالحتی جرگہ نے فریقین سے موقف دریافت کیا تو اکاخیل قبیلے نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ جب تک حکومت یا جرگہ ہمیں ہمارا اپنا قانونی حق، ایف آئی آر میں نامزد اٹھارہ ملزمان کی گرفتاری، نہیں دیتا اس وقت تک ہم تیگہ (فاٸر بندی) یا کسی قسم کے مذاکرات کیلئے تیار نہیں کیونکہ قاتل دندناتے پھر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں گرفتار کر لیا جائے تو مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔

مصالحتی جرگہ نے فائر بندی کے لئے کوشش کی لیکن اکاخیل قبیلہ نے ناراضگی کا اظہار کیا اور وہاں سے اٹھ گئے جس کے باعث مصالحتی جرگہ کی کوششیں رائیگاں چلی گئیں تاہم مصالحتی جرگے کے سربراہ نے جرگہ کوششیں جاری رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ امن کے قیام کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 7 مئی کو اورکزئی اور اکاخیل قبیلوں کے درمیان اراضی تنازعہ حل کرنے کے لیےسابق ایم این اے الحاج شاہ جی گل افریدی کی سربراہی میں کوکی خیل قومی مشران کا جرگہ کوہاٹ میں ہوا تھا۔

بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے الحاج شاہ جی گل نے بتایا کہ اس حوالے سے اتوار کے روز کوہاٹ ہی میں ایک اور جرگہ منعقد کیا جائے گا جس میں فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد وہ متنازعہ علاقے کا بھی دورہ کریں گے۔