شڈلہ اراضی تنازعہ کے سلسلے میں سابقہ ایم این آے کا کوہاٹ میں جرگہ

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

اورکزئی اور اکاخیل قبیلوں کے درمیان اراضی تنازعہ حل کرنے کے لیےسابق ایم این اے الحاج شاہ جی گل افریدی کی سربراہی میں کوکی خیل قومی مشران کا جرگہ کوہاٹ میں ہوا۔

شڈلہ اراضی تنازعے پر گزشتہ ہفتے اکاخیل قبیلے کے دو افراد فائرنگ سے جاں بحق ہوگئے تھے۔

جرگہ میں ایم پی اے پی کے 107 شفیق افریدی ،اے سی باڑہ نیک محمد بنگش ،سوشل ورکر و سابق امیدوار قومی اسمبلی حاجی جہانگیر افریدی، ملک حبیب نور اورگزئی، صوبائی وزیر عزن جمال ،ملک نصیر احمد کوکی خیل، حاجی یوسف مندو خیل، ترجمان الحاج کاروان حاجی فضل اکبر افریدی، الحاج عبدلواحد افریدی، حاجی شاہ نواز افریدی، ملک نوید افریدی، فضل حسین منیاخیل، حاجی خان باد طورخیل، حاجی اقبال شاہ و دیگر نے شرکت کی۔

بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے الحاج شاہ جی گل نے بتایا کہ اس حوالے سے اتوار کے روز کوہاٹ ہی میں ایک اور جرگہ منعقد کیا جائے گا جس میں فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد وہ متنازعہ علاقے کا بھی دورہ کریں گے۔

کچھ روز قبل قباٸلی ضلع خیبر باڑہ اکاخیل قبائل کے عمائدین نے ضلع اورکزئ کے بیزوٹی قبائل سے زمینی تنازعے پر دوافراد کے قتل کابدلہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر حکومت نے قاتلوں کو آئندہ اتوار تک گرفتار نہ کیا تو قبائلی روایات کے تحت بیزوٹی قبائل پر اکاخیل قبیلے کے لوگ لشکر کرکے قتل کابدلہ لیں گے۔

باڑہ پریس کلب میں اکاخیل قبیلے کے سیاسی وسماجی شخصیت حاجی سہیل احمدنے اپنے دیگر مشران حاجی پولٹیکل، امبیل شاہ رضا خان، الماس خان اور قبیلے کے ساتوں ذیلی شاخوں کے درجن بھر مشران نے بیزوٹی قبائل کےساتھ پیش ہونے والی زمینی تنازعہ میں قبیلہ اکا خیل کے دوافراد کی اجتماعی قتل پر شدید رد عمل کا اظہار کیا۔

مشران نے دوٹوک الفاظ میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ اورکزئی سکاؤٹس کے ایک صوبیدار میجر اور اوکزئی پولیس ڈی ایس پی محبوب خان کوقتل واقعے کاذمہ دارٹہراکر دونوں سرکاری اہلکاروں کو فوری برطرف کیا جائے اور واقعے میں ملوث قاتلوں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

مشران نے اورکزئی سکاؤٹس اور اورکزئی پولیس پر الزام عائد کیا ہے کہ بیزوٹی قبائل کو حملے کے وقت ان کی پشت پناہی حاصل تھی۔ انہوں نے کہا کہ تیراہ شڈلہ کےعلاقہ جو اکاخیل قبائل کی ملکیت ہے ان سے فوری طور پر اورکزئی سکاؤٹس اور اورکزئی پولیس کی چیک پوسٹ کو ختم کرکے خیبر رائفلز اور ضلع خیبر کے پولیس کو مذکورہ چیک پوسٹ پر تعینات کیا جائے۔

انہوں نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ قبیلہ اکاخیل کے دو بے گناہ افراد جنہیں بیزوٹی قبائل نے لشکر کشی کے ذریعے قتل کیا ہے لیکن ابھی تک حکومتی ادارے خاموش ہے اور قتل میں ملوث افراد کو تاحال گرفتار نہیں کیا گیاہے اس لئے قبیلے کے لوگ بیزوٹی قبائل سے آفریدی روایات کے مطابق بدلہ لیں گے۔