شورش زدہ باجوڑ میں ایف ایم ریڈیو سٹیشن کا قیام خوش آئند قرار

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

نئے ضم شدہ اضلاع میں خیبر پختونخوا حکومت کے زیر انتظام 5 ایف ایم ریڈیو سٹیشنز کے قیام کے منصوبے میں پہلے ریڈیو چینل نے باجوڑ میں آزمائشی نشریات شروع کر دی ہیں۔

محکمہ اطلاعات کے مطابق دیگر چار ایف ایم ریڈیو سٹیشنز مہمند، کرم، شمالی اور جنوبی وزیرستان میں قائم کئے جا رہے ہیں جن پر کام جاری ہے۔

محکمہ کے افسران کا کہنا ہے کہ قبائلی اضلاع میں مقامی سطح پر ریڈیو سٹیشنز کا قیام 2013 میں شروع کئے گئے پختونخوا ریڈیو کا تسلسل ہے جس کے تحت پشاور، مردان، سوات، کوہاٹ اور ایبٹ آباد میں چینلز کھولے جا چکے ہیں, باجوڑ میں پختونخوا ریڈیو 91.1 خار میں موجود باجوڑ پریس کلب کی عمارت میں قائم کیا گیا ہے جس نے رمضان میں آزمائشی طور پر رات گیارہ سے بارہ بجے تک نشریات کا اغاز کر دیا ہے۔

ٹرائبل پریس  سے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے باجوڑ ایف ایم ریڈیو کے سٹیشن انچارج فطرت بونیری نے کہا کہ اس اسٹیشن کو مکمل طور پر جلد سے جلد فعال بنانے کے لئے کام جاری ہے لیکن انہیں یہ اعزار حاصل ہوا ہے کہ وہ سب سے پہلے ضم شدہ اضلاع کے ریڈیو اسٹیشن سے نشریات چلانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بوسٹر (ٹاور) کی تنصیب کا کام جاری ہے جبکہ بیشتر بنیادی آلات اسٹیشن پر پہلے ہی نصب کردیئے گئے ہیں جس کے لئے انہوں نے لاہور سے دیگر سامان اور مشنری منگوا کر سیٹشن کو اس قابل بنایا کہ وہ اپنی ایک گھنٹہ کی نشریات چلا سکیں۔

” ہمیں اس بات پر بہت خوشی ہے کہ کورونا وائرس کی اس گھمبیر صورتحال میں ہم نے ضلع باجوڑ میں اپنی نشریات کا آغاز کیا کیونکہ ایک تو یہ کام کسی چلینج سے کم نہیں تھا کہ ہم ایک ایسے علاقے سے سرکاری ریڈیو کی نشریات شروع کریں جہاں پہلے سے لوگ دہشت گردی کا شکار ہو چکے ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے باعث باجوڑ میں بھی لاک ڈؤان کی وجہ سے اکثر مساجد بند کی گئی ہیں جس کی وجہ سے مقامی لوگ مذہبی تعلیمات سے محروم ہو گئے ہیں لیکن ہم نے رمضان المبارک کے مہینے میں اپنی آزمائشی نشریات کے لئے مختلف مکتبہ فکر کے علماء کرام کو اعتماد میں لے کر متفقہ طور پر ایک مذہبی پروگرام کا آغاز کیا جس میں روزانہ کی بنیاد پر لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ کر مذہبی تعلیمات حاصل کر رہے ہیں۔

ٹرائبل پریس سے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سینئر صحافی عبدالرؤف نے کہا کہ یہ ایک احسن اقدام ہے جس کے باعث پختونخوا ریڈیو باجوڑ کے ذریعے مقامی لوگوں کو مفید معلومات کے ساتھ ساتھ انٹرٹینمنٹ بھی فراہم کی جائی گی۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ باجوڑ ریڈیو ایف ایم کے اوریجنل فارمیٹ میں لوکل ایشوز پر کام کرے گا چاہے وہ سیاست ہو، صحافت ہو، ادب ہو اور یا صحت ہو جس میں مقامی لوگوں کی زبان ہو گی اور مقامی لوگ ہی اس پر بات کریں گے۔

عبدالرؤف یوسفزئی سمجھتے ہیں کہ پختونخوا ریڈیو باجوڑ اپنی امن پسند نشریات کی بدولت پاکستان اور افغانستان کے مابین بھی امن کے فروغ میں اپنا اہم کردار ادا کرسکتا ہے کیونکہ ضلع باجوڑ کی باونڈری ہمسایہ ملک کے کونڑ صوبے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پختونخوا ریڈیو باجوڑ مقامی نوجواںوں کو اپنے ساتھ لے کر آگے جائے گا جس سے نہ صرف وہ نوجوان علاقہ میں امن کے فروغ کے لئے اپنی آواز اٹھائیں گے بلکہ وہ معاشرے کے دیگر اصلاحی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔

ضلع باجوڑ میں پائیدار امن اور علاقائی ترقی کے لئے کوشاں نوجوانوں نے بھی پختونخوا ریڈیو سے امیدیں وابستہ کی ہوئی ہیں ۔

مصباح الدین اتمانی ضلع باجوڑ کے رہائشی، ٹرائبل یوتھ موومنٹ کے سینئر نائب صدر اور 2013 سے ضلع باجوڑ میں امن، تعلیم اور صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لئے کوشاں ہیں۔

ٹرائبل پریس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضلع باجوڑ کے عوام پختونخوا ریڈیو باجوڑ کی باقاعدہ نشریات کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ پختونخوا ریڈیو ایف ایم 91۔1 دہشت گردی سے متاثر ضلع باجوڑ میں امن کے فروغ کے ساتھ یہاں کی ثقافت اور تاریخ پر بھی کام کرے گا۔

مصباح الدین اتمانی کے بقول دیگر قبائلی اضلاع کی طرح ضلع باجوڑ کے عوام نے بھی دہشت گردی میں کافی مالی اور جانی نقصانات اٹھائے ہیں لیکن فاٹا انضمام اور امن کی بحالی کے بعد یہاں ریڈیو کی نشریات کی بحالی یہ پیغام دیتی ہے کہ اب یہاں امن کی فضا لوٹ آئی ہے ہم نوجوان بھی جسے برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گے۔

اس کے علاوہ باجوڑ کے نوجوانوں نے بھی سرکاری ریڈیو سیشٹن کی نشریات پر کافی خوشی کا اظہار کیا اور اسے ویلکم کرنے کے لئے انہوں نے ریڈیو سیٹشن کے فیڈ بیک نمبر پر ویڈیو پیغامات بھیجنا شروع کیے ہیں اور ریڈیو کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کر رہے ہیں۔

اس حوالے سے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سرکاری سختیوں اور پابندیوں کی وجہ سے ان قبائلی علاقوں میں آزاد میڈیا تو کبھی جڑ نہیں پکڑ سکا لیکن ’ریڈیو ملا‘ اور منگل باغ جیسے شدت پسندوں نے خوب وقتی فائدہ اٹھایا، اب جبکہ باجوڑ خیبر پختونخوا کے بندوبستی علاقے کا ضلع بن چکا ہے، امید کی جا رہی ہے کہ مقامی میڈیا بھی فعال ہو جائے گا۔

کئی صحافی اپنے طور پر فیس بک پیج اور یوٹیوب چینل تو چلا رہے ہیں لیکن پختونخوا ریڈیو باجوڑ کی باضابطہ نشریات سے اس علاقے کی حقیقی آواز اعلی حکام تک پہنچ سکے گی۔

درایں اثنا پختونخوا ریڈیو باجوڑ ایف ایم نے شروع سے ہی نوجوانوں کو رضا کار کے طور پر کام کرنے کا موقع دیا ہے جس میں بارہویں جماعت کے طالبہ نعیم نیازی کو باقاعدہ طور پر صحافت کے بنیادی اصول سکھائے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریڈیو اسٹیشن کا باقاعدہ افتتاح خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان اجمل وزیر کریں گے تاہم قبائلیوں کو ایک شکایت پاکستان کے کئی دیگر علاقوں کی طرح یہ ہے کہ قومی میڈیا ریٹنگ کی دوڑ میں ان کی بات ہی نہیں کرتا یہی وجہ ہے کہ یہاں بین الاقوامی نشریات ہی لوگوں کے لئے حالات سے باخبر رہنے کا بڑا وسیلہ تھیں۔

انہوں نے کہا اگر اسی طرح ہر ضلع اور تحصیل میں مقامی ریڈیو سٹیشنز بنائے جائیں اور ان میں لوگوں کے مقامی مسائل پر باتیں ہوتی رہیں اور ان کی ثقافت کو اجاگر کیا جائے تو غیر ملکی ریڈیو سٹیشنز کی طرح لوگ ان ریڈیوز کو بھی باقاعدگی سے سنیں گے۔