جنوبی وزیرستان کے ابھرتے باکسنگ سٹارکی کہانی، انہی کی زبانی

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

لوگ وزیرستان سے نقل مکانی میں مصروف تھے اور بلال کے سر پر باکسنگ سٹار بننے کا بھوت سوار تھا، محمد بلال محسود کا تعلق جنوبی وزیر ستان کے وادی بدر سے ہے اور انہیں بچپن سے فائٹر بننے کا شوق تھا۔ آئیے آپ کو وزیرستان کے اس نامور سٹار کی کہانی انہی کی زبانی سناتے ہیں۔

"اکثر خیالوں میں باکسنگ رینگ کے اندر ہزاروں تماشائیوں کے درمیان اپنے مدمقابل کو زیر کر دیتا، وقت کے ساتھ ساتھ میرے شوق میں مزید اضافہ ہوتا گیا، میں نے 2012 میں باکسنگ کا باقاعدہ آغاز کیا، اور اپنے شوق، محنت اور صلاحیت کی بنیاد پر 2013 میں نیشنل چیمپئن بنا، اپنی جیت کا سلسلہ برقرار رکھا اور بہت جلد انٹرنیشنل چیمپین بنا، جب انٹرنیشنل سطح پر ملک کی نمائندگی کر رہا تھا تو لاکھوں لوگ میری کامیابی کیلئے دعا گو تھے، وہ میرا حوصلہ بڑھا رہے تھے اور مجھے ایسا احساس دے رہے تھے کہ میں ان کے خاندان کا کوئی فرد ہوں، لوگوں کے دلوں میں اپنے لئے محبت دیکھی تو یقین ہو گیا کہ بچپن میں جو خواب دیکھے تھے اللہ تعالی نے سب قبول کر دیئے ہیں۔

چار گیموں میں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر رہا ہوں جن میں اوشو باکسنگ، پروفیشنل باکسنگ اور سواتے نام سے مشہور باکسنگ میں وہ 9 ملکوں کے اندر اپنے کامیابی کے جھنڈے گاڑ چکے ہیں, باکسنگ کی ابتدائی ٹریننگ آصف ملک سے حاصل کی، بعد میں عالم زبیر خان کی خدمات بطور کوچ حاصل کر لیں اور انہی کی نگرانی میں نیشنل اور انٹرنیشنل چیمپئن بنا۔

قومی سطح پر کھیلے جانے والے اپنی پہلی فائٹ میں برانز میڈل جیتا، 2017 میں سہ ملکی مقابلوں میں افغانستان، ایران اور پاکستان سے گیارہ گیارہ کھلاڑی حصہ لے رہے تھے، پاکستان کے 10 کھلاڑی ہار گئے، میں واحد کھلاڑی تھا جس نے پاکستان کیلئے گولڈ میڈل جیتا۔

ساؤتھ ایشین چیمپئن شپ میں سلور میڈل جیتا، سب سے بڑی فائٹ ڈبلیو بی اے میں پاکستان کی نمائندگی کی، سواتے نام سے مشہور باکسنگ کے بین الاقوامی مقابلے میں سری لنکا کو شکست دیکر گولڈ میڈل جیتا، جب میں وزیرستان کا نام لیتا تو لوگ تعجب کا اظہار کرتے، مجھے گھور گھور کر دیکھتے، وزیرستان کے حوالے سے وہ انتہائی منفی سوچتے تھے، مجھے جب نوکری کی تلاش تھی تو صرف اس وجہ سے مجھے ریجیکٹ کیا جاتا تھا کہ میرے نام کے ساتھ محسود لکھا تھا، مجھے بہت زیادہ دکھ ہوتا تھا کہ آخر کیوں وزیرستان کے مثبت پہلوؤں کو نظر انداز کر کے اس کے منفی پہلووں کو اجاگر کیا جاتا ہے، وزیرستان کے لوگ انتہائی نفیس، محب وطن اور باصلاحیت ہیں۔

اب میں ایک سکول میں ٹیچنگ کرتا ہوں، جس سے بمشکل گزارہ ہوتا ہے، میں اکثر قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں اپنی مدد آپ کے تحت شرکت کرتا ہوں، مالی مشکلات کی وجہ سے اکثر مقابلوں سے رہ جاتا ہوں، حکومت اگر مجھے سپورٹ کرے اور قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں مجھے سپانسر کرے تو میں ملک اور قوم کا نام روشن کر سکتا ہوں۔

میں نے وزیرستان کا سافٹ امیج اجاگر کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے، خود کو امن کا سفیر اور وسیلہ سمجھتا ہوں، مستقبل قریب میں ورلڈ چیمپئن بن کر یہ ثابت کروں گا کہ ہم باصلاحیت اور محب وطن لوگ ہیں، میں نے 2018 سے پروفیشنل باکسنگ شروع کی ہے اور اس میدان میں سب سے جونئیر ہوں، نو پروفیشنل باکسنگ مقابلوں میں حصہ لیا ہے جس میں سات ریکارڈ پر ہیں اور باقی دو بھی ریکارڈ پر آجائیں گے۔

سری لنکا اور افغانستان کے خلاف ہونے والی فائٹس انتہائی سخت تھیں، افغانستان کا کھلاڑی مجھ سے کہیں زیادہ سینئر اور تجربہ کار تھا لیکن میں نے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اس کو ہرایا، ہمیں ٹریننگ سنٹرز دستیاب نہیں ہیں، سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن میں اپنی محنت اور کوچ زبیر خان کی جدوجہد کے بدولت آج اس مقام پر ہوں۔”