لنڈی کوتل میں لاک ڈاؤن کے دوران بھی رشوت کا بازار گرم

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

الزامات ہیں کہ لنڈی کوتل بازار کے دکانداروں سے لاک ڈاؤن کے دوران رشوت لی گئی, دکاندار نجی محفلوں میں شکایات تو کرتے ہیں تاہم برملا بازار انچارج، پولیس اہلکاروں اور سول انتظامیہ کے خلاف نہیں بول سکتے۔

مارچ سے اس وقت تک لاک ڈاؤن کے دوران لنڈی کوتل بازار کے ان دکانداروں سے بازار کے انچارج پولیس اہلکاروں نے خوب رشوت لی جن کو دکانیں کھلی رکھنے, دیر تک کھلی رکھنے اور وقت سے پہلے کھلی رکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔

مصدقہ ذرائع سے معلوم ہوا کہ کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے دوران عام و خاص سارے لوگ معاشی لحاظ سے خراب ہوئے لیکن سب سے زیادہ ظلم لنڈی کوتل بازار کے دکانداروں سے ہوا ہے جن سے مختلف ایجنٹوں اور دکانداروں کے ہاتھوں پیسے لئے گئے۔

ذرائع کے مطابق لنڈی کوتل بازار سے ہسپتال چوک تک تمام کباب فروشوں سے فی کس چار ہزار روپے جمع کرائے گئے اور ان کو دبایا گیا کہ وہ اس رشوت ستانی کے حوالے سے میڈیا کو کچھ نہیں بتائیں گے۔

اسی طرح نائی خانوں کے مالکان سے بھی خوب رشوت لی گئی اور جنہوں نے انکار کیا ان کو پابند سلاسل کرنے کی دھمکی دی گئی اور زیادہ تر نائی خانے لاک ڈاؤن کے دوران خفیہ طور پر کھلے رکھے گئے۔

مستند ذرائع کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران لنڈی کوتل بازار کے دکانداروں سے 28 لاکھ روپے سے زیادہ کی رشوت لی گئی ہے جس کو ہڑپ کرنا اکیلے سول انتظامیہ یا پولیس کا کام نہیں جب تک دونوں آپس میں گٹھ جوڑ نہ کریں۔

اہم سرکاری ذرائع نے تو یہ بھی بتایا ہے کہ لنڈی کوتل رنگڑ مارکیٹ کے دکانداروں سے اب بھی پیسے لئے جاتے ہیں۔

اس حوالے سے پولیس کے بعض ذمہ داران سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی کوئی دکانداروں سے رشوت خوری میں ملوث رہا ہے تو ان کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی ہونی چاہئے۔

لنڈی کوتل بازار کے انچارج کے نام پر پہچانے جانے والے پولیس اہلکار قمدان خان نے کچھ دن پہلے لنڈی کوتل بازار کے دکانداروں سے پیسے لینے کے حوالے سے سختی سے تردید کی اور کہا کہ کسی اہلکار نے کسی دکاندار سے کوئی پیسے نہیں لئے ہیں تاہم زیادہ تر تاجروں اور دکانداروں نے لنڈی کوتل بازار کے انچارج پولیس اہلکاروں کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔