خیبر کے بعد وانا میں اراضی تنازعہ پر قبائل کے درمیان مسلح تصادم

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

جنوبی وزیرستان کی تحصیل برمل میں 3 قبیلوں کے مابین زمین کی ملکیت کے تنازع پر مسلح تصادم ہوا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

تینوں قبائل نے ایک دوسرے پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے رات بھر شدید فائرنگ کی، پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی تاہم واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

تحصیل برمل کے علاقے اعظم ورسک میں زمین کی ملکیت کے معاملے پر 3 قبائلی گروپوں نے پہاڑوں پر مورچہ زن ہو کر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے رات بھر ایک دوسرے پر شدید فائرنگ کی۔

اعظم ورسک میں رات بھر ہونے والی فائرنگ سے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا رہا۔ڈی پی او جنوبی وزیرستان شوکت علی کے مطابق واقعہ میں کوئی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

واضح رہے کہ اس وقت خیبر کے اکاخیل اور اورکزئی کے بیزوٹ قبائل کے درمیان بھی اراضی تنازعہ پر کشیدگی جاری ہے گزشتہ دنوں بیزوٹ قبائل نے لشکرکسی کر کے اکاخیل قبیلے کے دو افراد کو قتل کر دیا تھا۔

واقعہ کے بعد گزشتہ روز مقتولین کی نماز جنازہ اور تدفین کے بعد اکاخیل قبیلہ کے مشران نے بیزوٹی قبائل کی جانب سے لشکر کشی اور قبیلے کے دو افراد کو دن دیہاڑے قتل کرنے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا، اس موقع پر بدلہ لینے کے عزائم کے اظہار پر مبنی جذباتی مناظر بھی دیکھنے کو ملے، واقعے کی وجہ سے فریقین کے درمیان خلفشار کی کیفیت میں بدستور اضافہ ہو رہا ہے اور تاحال دونوں قبیلوں کے درمیان فائر بندی نہیں ہو سکی ہے۔

واضح رہے کہ قبیلہ اکاخیل کا ہی باڑہ پل کے ساتھ واقع زمین پر کئی سالوں سے ضلع پشاور کے اہل شیخان کے ساتھ تنازعہ چل رہا ہے، قبل ازیں 18 اپریل کو قبیلہ اکاخیل اور ضلع پشاور کے علاقہ شیخان کے رہاٸشیوں کے مابین زمینی تنازعہ پر تصادم میں بھی دو افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

ادھر باجوڑ اور مہمند اقوام کے درمیان بھی حدبندی تنازعہ چل رہا ہے جس میں تاحال کوئی واضح پیش رفت نہ ہو سکی ہے۔

اپریل کے پہلے ہفتے میں دونوں قبائل کے درمیان حد بندی تنازعہ شدت اختیار کر گیا تھا۔

باجوڑ اور مہمند اضلاع کی سرحدیں مامدگٹ کے مقام پر ایک دوسرے سے جدا ہوئی ہیں لیکن کافی عرصہ سے ضلع مہمند میں رہنے والی صافی قوم اور ضلع باجوڑ کی تحصیل نواگئی میں قیام پذیر لوگوں کا تنازعہ چلا آ رہا ہہے۔

حال ہی میں کافی دنوں تک حدود کے اسی تنازعہ پر باجوڑ اور مہمند قبائل کے ہزاروں لوگ دربنڑو کے مقام پر احتجاجی دھرنا دیئے بیٹھے رہے، دفعہ 144 کے باوجود بھی دونوں اطراف لوگوں کی کثیر تعداد جمع رہی، باجوڑ کے منتخب نمائندوں، سیاسی و علاقائی مشران نے ضلعی انتظامیہ باجوڑ اور مہمند سے بروقت حل نکالنے کی اپیل کی ہے۔