پشاورمیں ڈھول بجا کر سحری کیلئے جگانے کی روایت دم توڑ گئی

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

کرونا وائرس کے باعث رمضان المبارک میں اندرون شہر ڈھول بجا کر لوگوں کو سحری کیلئے جگانے کی روایت اب دم توڑ گئی ہے۔

کرونا وائرس کے باعث شہری صبح کی نماز تک جاگے ہوتے ہیں، جبکہ صبح کی نماز کی ادائیگی کے بعد سو جاتے ہیں اور دوپہر تین سے چار بجے تک سوئے ہوتے ہیں۔

صوبائی دارالحکومت پشاور کے اندرون شہر اور بعض علاقوں میں سحری کے اوقات کار کے دوران شہریوں کی بیداری کیلئے ڈھول بجایا جاتا تھا، تاہم اب یہ روایت ختم ہو رہی ہے۔ جدید دور کے باعث اس کام سے وابستہ افراد بھی اب دکانوں اور گھروں تک محدود ہوگئے ہیں۔

شہری اب موبائل فون اور گھڑیوں میں ٹائم مختص کر دیتے ہیں اور الارم پر اٹھتے ہیں جس کے باعث اندرون شہر اور بعض علاقوں میں "اٹھ جاؤ سحری کر کے روزہ رکھ لو” کی صدائیں گُم ہوگئی ہیں۔

رات کے اوقات کار میں شہریوں کو جگانے کیلئے ایک گروپ نعتیں سنانا تھا، تاہم یہ بھی اب ماضی کا ایک حصہ بن گیا ہے۔