شمالی وزیرستان میں اراضی تنازعہ پر دو قبائل قومیں مورچہ زن

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

خیبر پختوخواہ کے ضلع شمالی وزیرستان کی تحصیل غلام خان میں شرخیل اور گلگ خیل کے درمیان اراضی تنازعہ جاری ہے جہاں گلگ خیل نے شرخیل کو دھمکی دی ہے کہ آج شام چھ بجے وہ چھوٹے اور بھاری اسلحہ سے حملہ کریں گے۔

نمائندہ ٹرائبل پریس کے مطابق گلگ خیل کی اس دھمکی کے بعد شرخیل کی خواتین باب وزیرستان/ پاک افغان شاہراہ پر نکل آئیں اور سڑک کو ٹریفک  کیلئے مکمل طور پر بند کردیا۔

شرخیل کی خواتین نے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ تنازعے کے حل میں اپنا کردار ادا کرے تاکہ دونوں قبائل کے درمیان خون خرابہ نہ ہو۔

مقامی لوگوں کے مطابق غلام خان تحصیل کے دونوں قبائل گلگ خیل اور شرخیل کے درمیان 2000 سے اراضی تنازعہ چل رہا ہے، گلگ خیل کا دعوٰی ہے کہ یہ اراضی ان کی ہے جبکہ شرخیل کا کہنا ہے کہ وہ کسی صورت یہ اراضی کسی کو دینے کو تیار نہیں ہیں۔

نمائندے کے مطابق دو سال قبل پولیٹیکل ایجنٹ نے 2002 میں اس تنازعہ کے حل کیلئے ایک جرگہ تشکیل دیا تھا جس نے گلگ خیل کے حق میں فیصلہ دیا تاہم شرخیل قبیلہ کے لوگ یہ فیصلہ ماننے کو تیار نہیں تھے۔

شرخیل نے ایک جرگہ کے ذریعے اس فیصلے کیخلاف انتظامیہ کو درخواست کی کہ جرگہ نے ناحق فیصلہ کیا ہے لہٰذا یہ فیصلہ واپس لیا جائے۔

انتظامیہ نے یہ فیصلہ اس شرط پر واپس لیا کہ اراضی متنازعہ رہے گی تاہم دونوں قبائل ایک دوسرے سے جنگ نہیں کریں گے، انتظامیہ نے بطور ضمانت ایک قبیلے سے دس لاکھ جبکہ دوسرے سے دو گاڑیاں لے لیں۔

ذرائع کے مطابق کچھ ہی عرصہ بعد فریقین کے مابین ایک جرگہ ہوا جس نے اب کی بار گلگ خیل کی بجائے شرخیل قبیلے کے حق میں فیصلہ دیا۔

جرگہ حسن خیل قبیہ کے مقامی ملا گل رمضان اور قاری نوراللہ کی سربراہی میں ہوا، جرگہ میں شرخیل قبیلہ کی جانب سے 20 افراد نے قسم اٹھائی کہ یہ اراضی ان کی ہے تاہم گلگ خیل قسم اٹھانے کو تیار نہیں تھے جس پر یہ اراضی شرخیل کے حوالے کردی گئی۔

تاہم تنازعہ پھر بھی حل نہ ہوسکا، فاٹا انضمام کے بعد گلگ خیل نے جرگہ فیصلے کیخلاف عدالت میں درخواست دائر کردی جس میں یہ فیصلہ واپس لینے کا موقف اپنایا گیا ہے۔

عدالت کو جب معلوم ہوا کہ شرخیل قبیلہ کے لوگ قسم اٹھا چکے ہیں تو عدالت نے گلگ خیل قبیلے کی درخواست خارج کردی۔

نمائندہ ٹی این این کے مطابق چند روز بعد دونوں قبائل کے درمیان تنازعہ نے شدت اختیار کرلی اور گزشتہ روز فریقین کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس پر گلگ خیل نے شرخیل پر حملہ کرنے کی دھمکی دیدی۔

گلگ خیل کی جانب سے دھمکی پر آج شرخیل قبیلے کی خواتین بچوں کے ہمراہ سڑکوں پر نکل آئیں اور انتظامیہ سمیت حکام بالا سے اپیل کی کہ اس تنازعہ کا کوئی حل نکالا جائے تاکہ دونوں قبائل کے درمیان خون ریزی نہ ہو۔