دہشت گردی سے متاثر قبائلی علاقہ باڑہ میں پہلی دفعہ سٹرابری کی کاشت

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

امیر نواز کا ذریعہ معاش زارعت ہے لیکن رواں سال وہ ایسے فصل کے دیکھ بھال کررہا ہے جو اُنہوں نے پہلی بار کاشت کیا ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ چند مہینے پہلے ایک امدادی ادارے ایس آر ایس پی کے ٹیم نے اُن کے زرعی ز مین کا معائنہ کرنے کے بعد فیصلہ کیا کہ دوکنا ل زمین پر سٹرابیر ی فصل اُگائیں گے جوکہ دوسرے فصلو ں کے نسبت زیادہ آمدن دے گا۔

ایس آرایس پی کے اکنا مک گروتھ آفیسر زلان نے بتایا کہ ضلع خیبر کے قبیلہ اکاخیل کے زمین زرعی پیداوار کے لئے انتہائی اہم ہے اور مقامی کاشتکاران اجناس، سبزی اور مختلف میواجات کے بڑی پیداوار اپنے زمینوں سے حاصل کرلیتے ہیں لیکن ادارے کے جانب سے پوری تفصیلی جانچ پڑتال کے بعد پانچ مقامات کا انتخاب کیا گیا جہاں پر دو دوکنا ل پر پہلی دفعہ سٹرابیری کو کاشت کیاگیا۔اُنہوں نے بتایا کہ کئی سال پہلے علاقے میں خراب امن وامان کے صورتحال کی وجہ سے دوسری معاشی شعبوں کی طرح علاقے کے کاشتکارو ں کو بھی کافی نقصان اُٹھانا پڑالیکن اب زراعت کی بحالی کے لئے محکمہ زراعت اور امدادی ادارے ملکرمقامی کاشتکاروں کی مدد کررہے ہیں۔

ضلع خیبر میں اکاخیل قبیلے کے ذیلی شاخوں میری خیل اورسلطان خیل میں سٹرابیری کو کاشت کیا گیا ہے اوروہاں کے کاشتکاروں موجودہ وقت میں اپنے فصل سے آمدن کے حصول میں مصروف ہیں۔نئے فصل کے کاشت کا تجربہ مقامی کاشتکاروں کے لئے آمد ن کے لحاظ کافی اچھا تھا لیکن باقاعدہ تربیت، پودوں کے حفاظت،بیماریوں سے بچاؤ کے لئے بروقت ادویات کے کمی اور رواں سال بارش کے مقدار میں اضافے کی وجہ سے سٹرابیر ی کے فصل کو نقصان کا سبب بن گئی۔

عبدالمجید بھی مقامی کاشتکار ہے اور اپنے زرعی زمین کے دوکنال زمین پر سٹرابیری کاشت کرچکا ہے جبکہ موجودہ وقت میں وہ مارکیٹ میں بھیجنے کے لئے اُن سے میوہ اکٹھا کررہاہے۔اُنہوں نے بتایاکہ سٹرابیری کے کاشت کا تجربہ بہت ہی کامیاب تھا کیونکہ زرعی زمین کے چھوٹے حصے سے بہت کم وقت میں زیادہ آمدن باآسانی کے ساتھ کاشتکار حاصل کرلیتا ہے۔

امیر نواز کے مطابق یہاں کے مقامی دوکاندار سٹرابیری کو2 سو روپے فی کلو خرید کر 250 روپے فروخت کرتا ہے۔اُن کے بقول یہاں پر مقامی مارکیٹ بھی کافی اچھا ہے لیکن اس میں مزید بہتری کے مواقع موجود ہے کیونکہ جب تک سٹرابری کی کاشت علاقے میں بڑھتا نہیں تب تک اس سے زیادہ فائدے کے حصول مشکل ہوگا کیونکہ یہاں پر دور دور سے لوگ سٹرابیری کے فصل کو دیکھنے اور میوہ کھانے کے لئے آتے ہیں او ر کسی کو منع کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ اس کے علاوہ لوگ چوری چھپکے سٹرابیر ی کے کھیت میں آکر نہ صرف غلط طریقہ سے میوا کو تھوڑتے ہیں بلکہ دوسرے پودوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔

امیرنواز کو پچھلے اکتوبر میں ایس آرایس پی کی جانب سے سٹرابیری کے نرسری یا چھوٹے پودیں مہیاکئے گئے جس کو اُنہوں نے چاو ل کے فصل کی طرح بو دیا اوراب فصل بالکل تیار ہے لیکن زیادہ بارشیں، بروقت ادویات کے استعمال اور فصل کے دیکھ بھال کے لئے کے بارے میں کم تجربے کی وجہ سے اُن کو مسائل کا سامناکرنا پڑ رہاہے۔

زلان نے کہاکہ سٹرابیر ی کے بیج کو خیبرپختونخوا کے سرد علاقوں میں بویاجاتاہے جس کو بعد میں نرسری کے شکل میں گرم علاقوں میں لایاجاتا ہے جس کو کھیت میں لگا کر تقریبا چھ مہینے میں پوار فصل ختم ہوجاتا ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ اکاخیل میں سٹرابیر ی کے نرسری کو اکتوبر میں سوات اور دیر سے لاگیا تھا جس کو مقامی زمینداروں نے پہلے سے منتخب پلاٹ میں اصولوں کے مطابق لگا یا گیا۔اعدادو شمارکے مطابق دو کنال میں بارہ ہزار پودیں کاشت کی گئیں۔

کاشتکاروں کے سٹرابیر ی کے فصل کے انتخاب کے طریقہ کارکے حوالے سے ادارے کا کہنا ہے کہ علاقے میں آپریشن کے وجہ سے بے گھر افراد کے بحالی کے عمل شروع ہونے کے بعد 2016سے علاقے میں مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے جس میں مقامی افراد کے شمولیت کے لئے گاؤں کے سطح پر کمیٹیاں کام کررہے ہیں جس میں ہر مکاتب فکر کے لوگ شامل ہوتے ہیں جن کے ساتھ علاقے میں آنے والے منصوبوں پر صلاح و مشورے کئے جاتے ہیں اور سٹرابیر ی کے کاشت کے لئے بھی یہی طریقہ اپنا یا گیا۔ ادارے کے مطابق علاقے میں زرعی شعبے میں ہونے والے تمام اقدمات کے حوالے محکمہ زراعت خیبر کے تجربات سے بھی فائدہ لیاجاتا ہے۔

ایس آر ایس پی کے مطابق کے سٹرابیری کے فصل کے کامیاب تجربے کے بعد کوشش ہوگی کہ مستقبل میں منصوبے میں مزید توسیع کرکے علاقے کے دوسرے کاشتکاربھی اس سے مستفد ہونگے جبکہ وادی تیراہ میں اس کے بیج کے کاشت کے حوالے سے ایک بہتر آب و ہوا موجود ہے جو کہ علاقے میں روزگار کا ایک بڑا ذریعہ بن سکتا ہے۔

تحصیل باڑہ میں ستمبر 2009 کو دہشت گردی کے خلاف آپریشن کی وجہ سے مقامی لوگوں کے ذرائع آمد ن کو کافی نقصان پہنچا تھاجس میں زرعی شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوا تھا۔مقامی کاشتکاروں کا کہنا تھاکہ دو سے تین سال زرعی زمینوں پر کسی قسم کا کاشت نہیں کیا گیا کیونکہ پورا علاقہ خالی کرائی گئی تھی اور کسی کو بھی اپنے گھر جانے کی اجازت نہیں دیا جارہاتھا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ دوبارہ زمین کو زیر کاشت لانے کے لئے بھاری رقم، سخت محنت اور کئی سال کا عرصہ لگا جبکہ اُ س کے بعد علاقے میں مختلف جنگلی جانوروں کے تعداد میں بھی کافی اضافہ ہوچکا ہے جوکہ رات کے وقت فصل پر ریوڑ کے شکل میں حملہ آور ہوجاتے ہیں جس کے وجہ کاشتکاروں کو بھاری نقصان اُٹھانا پڑرہا ہے۔

کرونا وائرس سے بچاؤ کی خاطر پورا ملک اس وقت لاک ڈاؤن کی وجہ سے بند پڑا ہے جس کی وجہ سے معاشی  اور کاروباری سرگرمیان ماند پڑگئی ہے جس کی وجہ سے  مقامی کاشتکاروں اپنے فصل کو بر وقت منڈیوں تک پہنچانے میں مسائل کا سامنا کررہے ہیں۔