کورونا: لوئر دیر 56، چترال 16، اور چارسدہ میں تعداد 53 ہو گئی

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں کورونا وائرس کے نئے کیسز رپورٹ ہوئے جہاں تادم تحریر 104 افراد اس موذی مرض کا شکار ہو کر جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ مصدقہ کیسز کی تعداد 1984 تک جا پہنچی ہے۔

نمائندہ ٹرائبل پریس  کے مطابق لوئر دیر میں کورونا وائرس کے مزید چار کیسز سامنے آئے جس کے بعد ضلع میں متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 56 ہو گئی جن میں ایک ڈاکٹر سمیت محکمہ صحت کے چھ اہلکار بھی شامل ہیں۔

ڈپٹی ڈی ایچ او فوکل پرسن ڈاکٹر ارشاد علی روغانی کے مطابق پیر کے روز لوئر دیر میں سامنے آئے کورونا وائرس کے کیسز میں ایک مریض کا تعلق تیمرگرہ ہسپتال کے طبی عملہ سے ہے جبکہ تین کا تعلق ثمرباغ کے علاقوں شاہی، درنگال، اوربرگی سے ہے جنہیں کراچی سے واپسی پر حنفیہ معیار کے قرنطنیہ مرکز میں رکھا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ دیر لویر میں کورونا وائرس سے اب تک 6 افراد جاں بحق، 56 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق جبکہ 21 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔

اسی طرح چترال سے ٹی این این کے نمائندے گل حماد فارقی کی رپورٹ کے مطابق چترال میں چار مزید مشکوک مریضوں کا ٹیسٹ پازیٹیو آیا جس کے ساتھ ضلع میں مریضوں کی تعداد 16 تک پہنچ گئی۔

محکمہ صحت کے پبلک ہیلتھ کو آرڈینیٹر ڈاکٹر نثار اللہ کے مطابق ضلع اپر چترال سے تعلق رکھنے والے ثناء اللہ ولد صاد ق اللہ عمر 22 سال جو بونی کے قریب مشہور قصبے چرون کے باشندہ ہے وہ 20 اپریل کو پشاور سے آیا تھا ان کو گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین بونی کے قرنطینہ مرکز میں رکھا گیا تھا کل اس کا ٹیسٹ پازیٹیو آیا اور اسے آئسولیشن وارڈ شفٹ کیا گیا۔

محکمہ صحت کے ترجمان کے مطابق زیریں چترال سے تعلق رکھنے والے ہجرت بیگم زوجہ معین اللہ عمر 38 سال جو پاک افغان سرحدی علاقے دومیل کی رہائشی ہے وہ بھی پشاور سے آئی تھی اسے دروش کے قرنطینہ مرکز میں رکھا گیا تھا کل اس کا ٹیسٹ بھی پازیٹیو آنے کے بعد اسے ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں شفٹ کیا گیا۔

ترجمان کے مطابق مسلم شاہ ولد عجائب شاہ سکنہ گہتک دنین عمر 64 سال جو پنجاب کے ضلعی خوشاب سے آیا ہوا تھا اسے بھی چترال ڈگری کالج کے قرنطینہ میں رکھا گیا تھا، عبدالفیاض ولد عبد اللہ خان سکنہ دنین عمر 28 سال یہ بھی پنجاب کے خوشاب ضلع سے چترال آیا ہوا تھا اور اسے بھی گورنمنٹ کامرس کالج کے ہاسٹل میں مقیم قرنطینہ مرکز میں رکھا گیا تھا۔ ان کا بھی ٹیسٹ پازیٹیو آ گیا جس سے چترال میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 16 ہوگئی جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ چترال کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں صرف تین وینٹی لیٹرز ہیں اور ان کے چلانے کیلئے بھی تربیت یافتہ عملہ نہیں ہے۔ چترال کے لوگ صوبائی اور وفاقی حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ چترال کے ہسپتالوں میں کورونا وائرس کی وباء کی روک تھام اور علاج معالجے کیلئے عملہ کے ساتھ ساتھ ضروری سامان اور مشنری بھی ہنگامی بنیادوں پر بھجوائی جائے۔

دریں اثناء عوامی حلقوں میں اس بات پر نہایت تشویش پائی جاتی ہے کہ کامرس کالج کا قرنطینہ مرکز کرونا وائرس کی پیداوار کا ایک مرکز بن چکا ہے جہاں سے کئی کیس مثبت آچکے ہیں اور وہاں قرنطینہ میں رہنے والے ایک مریض نے نام نہ بتانے کی شرط پر ہمارے نمائندے کو ٹیلی فون پر بتایا کہ کامرس کالج کے ہاسٹل میں 43 سے 53 مریض رکھے جاتے ہیں جہاں صرف چار واش رومز ہیں اور سب لوگ انہی واش رومز اور لوٹوں کو بار بار استعمال کرتے ہیں جس سے یہ وباء ایک دوسرے کو لگ جاتی ہے۔ عوامی حلقوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اس بابت تحقیقات کرانے کی اپیل کی ہے۔

دوسری جانب چترال کے قرنطینہ مرکز سے کرونا وائرس کے مریضوں کے بھاگ جانے سے بھی لوگوں میں حوف و ہراس پایا جاتا ہے، حیات الرحمان ولد سعید اللہ خان سکنہ کاری چترال جو 8 اپریل کو پشاور سے آیا تھا اور کامرس کالج کے ہاسٹل نمبر 2 پہلی منزل کے قرنطینہ مرکز میں اسے رکھا گیا تھا وہ اتوار کے روز شام آٹھ بجے اپنے کمرے سے بھاگ گیا جبکہ پولیس اسے تلاش کر رہی ہے۔

اسی طرح چترال ٹوڈے کے مطابق حرمت شاہ ولد خان گل سکنہ علی آباد وادی آرکاری جو راولپنڈی سے دو دن پہلے آیا ہوا تھا چترال پہنچنے پر اسے کامرس کالج کے قرنطینہ مرکز میں رکھا گیا مگر چند لمحوں بعد ایک سرکاری گاڑی وہاں پہنچ گئی اور اسے وہاں سے نکال کر اسے کے گھر پہنچایا گیا جس سے علاقے کے لوگوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ چترال ٹو ڈے کے مطابق حرمت راولپنڈی میں ایک سرکاری افسر کے گھر میں کام کرتا ہے۔

علاقے کے لوگوں نے اس بات پر نہایت غم و غصے کا اظہار کیا ہے کہ بعض لوگوں کو تو پولیس گھروں سے نکال کر قرنطینہ مرکز میں ڈالتے ہیں مگر بعض بااثر لوگوں کو سرکاری گاڑی میں قرنطینہ مرکز سے نکال کر غیر قانونی طور پر ان کے گھر پہنچایا جاتا ہے جس سے کرونا وائرس پھیلنے کا خدشہ ہے

دوسری جانب چارسدہ سے ٹرائبل پریس کے نمائندے انیس ٹکر کی رپورٹ کے مطابق 27 اپریل 2020 کو ضلع بھر میں کورونا وائرس کے مشتبہ افراد کی تعداد 314 تھی جن میں 3 مریضوں کی فوتگی ہوئی ہے جبکہ 21 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں، ٹیسٹ نتائج کے مطابق 53 افراد کے نتائج مثبت جبکہ 255 افراد کے نتائج منفی آئے ہیں، 6 افراد کے ٹسٹ کے نتائج تاحال موصول نہیں ہوئے ہیں۔

چارسدہ کی تینوں تحصلیوں کے اعداد و شمار کے مطابق تحصیل چارسدہ میں اس وقت کورونا وائرس کے 160 مشتبہ افراد موجود ہیں جبکہ تحصیل تنگی میں 102 اور تحصیل شبقدر میں 49 مشتبہ مریض علی الترتیب زیر نگرانی ہیں۔

تحصیل کی سطح پر کورونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد تحصیل چارسدہ میں 31، تحصیل تنگی میں 13 اور تحصیل شبقدر میں 9 ہے۔

تحصیل چارسدہ کے مصدقہ مریضوں میں 30 مقامی جبکہ ایک چینی باشندہ شامل ہے جو تبلیغی جماعت کا رکن تھا، تحصیل تنگی میں 9 مقامی باشندوں کے علاوہ کرغستان کے 2 شہری، ایبٹ آباد کا ایک رہائشی اور بلوچستان سے آیا ہوا ایک شخص شامل ہے جو تبلیغی جماعت کے ارکان تھے۔

تحصیل شبقدر کے 4 مقامی مریضوں کے علاوہ ایک کا تعلق ملتان، دو کا بلوچستان، ایک کا راجن پور اور ایک کا کوئٹہ سے ہے جو تبلیغ کے لیئے شبقدر ائے ہوئے تھے۔

اسی طرح نوشہرہ سے ٹرائبل پریس کے نمائندے ندیم مشوانی کی رپورٹ کے مطابق ڈسٹرکٹ کورٹ کے محرر اور ان کے ایک بھائی کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا جس کے ساتھ ضلع میں مریضوں کی تعداد 37 ہو گئی۔

ڈپٹی کمشنر نوشہرہ کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے عدالتی محرر کے کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد تمام عدالتی عملے کا کرونا ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کیا جبکہ نوشہرہ کینٹ میں کلب روڈ کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا

اسی طرح نوشہرہ قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلکس کے سینئر ڈاکٹر اور ان کی اہلیہ سمیت چار مشتبہ کرونا مریضوں کو بھی ہسپتال میں داخل کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ اس وقت ملک بھر میں 13943 افراد کورونا وائرس سے متاثر جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 292 بتائی جاتی ہے جن میں 104 اموات کے ساتھ خیبر پختونخوا سرفہرست، 85 اموات کے ساتھ سندھ دوسرے جبکہ 84 ہلاکتوں کے ساتھ پنجاب تیسرے نمبر پر ہے۔ بلوچستان میں اب تک 13جبکہ گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں تین، تین افراد کورونا وائرس سے جاں بحق ہوئے ہیں۔