خیبرپختونخوا حکومت کا پنجاب سے انوکھا مطالبہ

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں گندم اور آٹے کی کمی کے پیش نظر وفاق سے مطالبہ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا سے ملحقہ پنجاب کے علاقوں میں گندم کی فصل کی کٹائی اور پسائی کی ذمہ داری انہیں سونپ دی جائے تاکہ صوبہ میں گندم کی کمی پر قابو پایا جاسکے۔

اس سلسلے میں صوبائی وزیر خوارک قلندر لودھی نے وفاقی وزیر خوراک سے ویڈیو لنک پر باقاعدہ رابطہ بھی کیا ہے اور ان سے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب کے بکر، ڈیرہ غازی خان، اٹک اور خیبرپختونخوا سے دیگر ملحقہ علاقات میں گندم کی کٹائی کی ذمہ داری خیبرپختونخوا کو دی جائے جس سے صوبے میں گندم کی کمی پوری ہوسکے گی۔

خیال رہے کہ خیبرپختونخوا میں روزانہ کی بنیاد پر 10 ہزار ٹن گندم استمال ہوتا ہے جس میں 5 ہزار پنجاب سپلائی کرتا ہے لیکن کورونا وائرس کے پیش نظر لاک ڈاؤن کی وجہ سے پنجاب سے یہ سپلائی متاثر ہوئی ہیں جس کے باعث صوبے میں گندم اور آٹے کی کمی کا سامنا ہے۔

قلندر لودھی نے کہا ہے کہ پنجاب میں امسال گندم کے فصل کی کٹائی ایک ہفتے پہلے شروع ہوچکی ہیں لیکن وہاں سے ہمیں گندم اور آٹے کی فراہمی تب تک مشکل ہے جب تک وہ اپنی ضرورت پوری نہیں کرتے اس لئے وفاق سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا اگر وفاق اجازت دیتی ہے تو پنجاب کے ان علاقوں کی فصل کی کٹائی کے بعد پسائی پنجاب ہی کے فلور ملوں سے کروائی جائے گی لیکن فائدہ یہ ہوگا کہ پسائی کے فورا بعد اسے خیبرپختونخوا پہنچایا جائے گا۔

اس حوالے سے خوراک کے صوبائی وزارت میں فوڈ سیفٹی ڈائریکٹر آپریشن عظمت وزیر نے بتایا کہ فی الحال اس وبائی صورتحال میں صوبے کے کسی بھی علاقے سے غذائی قلت کا رپورٹ سامنا نہیں آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ” نہ تو غلہ میں کوئی کمی آئی ہے اور نہ ہی پنجاب سے خوراک کی سپلائی منقطع ہوئی ہے سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے، اس کے علاوہ صوبے میں جو علاقے قرنطین بنائے گئے ہیں اور ان علاقوں کے جتنے بھی لوگ گھروں میں محصور ہوگے ہیں ان سب کے لئے فوڈ پیکچز بنائے گئے اور متعلقہ اداروں کے ذریعے ان تک پہنچائیں گے ہیں”

اقتصادی امور کے ماہر ڈاکٹر زراکت ملک نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ گندم کی فصل تیار ہے لیکن لاک ڈاون کی وجہ سے کٹائی اور فلور ملوں تک رسائی مسئلہ بنا ہوا ہے، ابھی تک نہ توصوبائی اور نہ ہی وفاقی حکومت نے اس حوالے سے کوئی لائحہ عمل تیار کیا ہے جس کے ذریعے تیار فصل کی وقت پر کٹائی اور اسے فلور ملز سے لیکر عوام تک پہچانے میں مدد مل سکے۔

انہوں نے کہاہے کہ موجود صورتحال کے پیش نظر حکومت کو چایئے تھا کہ وہ ایک پالیسی بناتے جس کے ذریعے چاروں صوبوں کے تیار فصل کٹائی ممکن ہوتی اور غذائی قلت کی حجم کو برقرار رکھ جاتا لیکن حکومت کی کوئی واضح لائحہ عمل نہ ہونے کی وجہ سے یہ اندیشہ سامنے آیا ہے کہ یا تو یہ فصل کھیتوں میں ضائع ہوجائی گی اور یا لاک ڈاؤن کے باعث وقت پر فلور ملز تک نہ پہنچانے سے صوبے میں غذائی قلت آسکتی ہیں۔

خیبرپختونخوا کے وزیراطلاعات اجمل وزیر کا کہنا ہے کہ کابینہ کے اجلاس میں رمضان المبارک میں گندم اور دیگر خوراکی اشیاء کی نگرانی کے لئے ٹاسک فورس بنائی گئی ہیں جو ان چیزوں کی کمی کے بارے میں صوبائی حکومت کو رپورٹ دے گی۔

اجمل وزیر کے مطابق رمضان المبارک کے مہینے کے ساتھ مئ تک ہمارے پاس گندم کی سٹاک موجود ہے اور جو آٹا ہمیں پنجاب سے ترسیل کی جاتی ہیں وہ زیادہ سے زیادہ 5 ہزار ٹن ہوتی ہیں لیکن ہمارے صوبے میں ایک دن کے لئے 10 ہزار ٹن آٹے کی ضرورت ہیں تو اس حوالے آٹے کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ہمارے پاس پہلے سے 5 ٹن آٹا موجود ہوتا ہے جس کو ہم پنجاب کے آٹا سے ملا کر صوبے کی ضرورت کو پورا کرتے ہیں اور یہ سلسلہ اسی طرح برقرار رہتا ہے۔

اجمل وزیر کے بتایا کہ صوبے میں ضم شدہ اضلاع سمیت دیگر اضلاع میں بھی انہوں نے یوٹیلٹی سٹورز کی تعداد میں اضافہ کیا ہے اور انہیں پہلے سے زیادہ بہتر بنایا ہے تو اس حوالے سے وہ مطمئین ہیں کہ رمضان المبارک کے دوران صوبہ بھر میں غذائی قلت کی کمی پیش نہیں آئی گی۔