خیبرپختونخوا حکومت نے ڈاکٹر محمد جاوید کا نام سول ایوارڈ کے لئے نامزد

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

کورونا وائرس کی وجہ سےایک اور مسیحا زندگی کی بازی ہار گیا ،خیبرپختونخوا میں کورونا نے سینیر ڈاکٹر کی جان لے لی۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور کے ڈاکٹر پروفیسر جاوید میں 15 دن پہلے کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔

انتظامیہ نے بتایا کہ ڈاکٹر پروفیسر جاوید گزشتہ 15 دن سے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں آئسولیشن وارڈ میں زیر علاج تھے۔

انتظامیہ کے مطابق کئی روز سے وینٹی لیٹر پر رہنے کے بعد پروفیسر ڈاکٹر جاوید کی موت آج صبح سحری کے وقت واقع ہوئی۔ ہسپتال ڈائریکٹر نے بتایا کہ پروفیسر جاوید ہسپتال کے ای این ٹی وارڈ میں خدمات انجام دے رہے تھے۔

واضح رہے گلگت بلتستان میں بھی ایک ڈاکٹرکورونا وائرس سے جاں بحق ہوگیا تھا۔  گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے متاثرافراد کا علاج کرنے والے نوجوان ڈاکٹر اسامہ ریاض خود اس وائرس کا شکار ہو کر انتقال کر گئے ۔ گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فرق کا کہنا تھا کہ ’یہ وہ دور ہے جس میں بھائی بھائی سے بھاگ رہا ہے، وائرس کا اتنا خوف ہے کہ باپ بیٹے کا نہیں رہا اور بیٹا باپ کا نہیں رہا، اس صورتحال میں ڈاکٹر اسامہ ریاض اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر مریضوں کو علاج معالجہ فراہم کرتے رہے تھے، ڈاکٹر اسامہ اصل ہیرو ہے۔

ڈاکٹر اسامہ ریاض، تفتان سے گلگت بلتستان آنے والے زائرین کے پڑی بنگلہ کے مقام پر قائم کردہ قرنطینہ مرکز میں اس وائرس سے متاثر ہونے سے قبل خدمات انجام دے رہے تھے۔

خیال رہے کہ خیبرپختونخوا میں کورونا کے کیسز کی تعداد 1700 سے زائد ہے اور اب تک سب سے زیادہ 89 ہلاکتیں بھی یہیں ہوئی ہیں جب کہ صوبے میں پشاور شہر کورونا سے بری طرح متاثر ہے۔

یاد رہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے ڈاکٹر محمد جاوید کا انسانی خدمات کے اعتراف میں ان کا نام سول ایوارڈ کے لئے نامزد کر دیا ہے جبکہ حکومت شہید کے خاندان کے لئے خصوصی پیکچ کا بھی اعلان کرے گی۔