کورونا کیخلاف جنگ : مردان میں 19 سالہ لڑکی سڑکوں پر

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

مردان میں خلافِ روایت اور خلافِ توقع ایک لڑکی سڑکوں پر، مارکیٹوں اور حجروں میں لوگوں کے پاس جاتی ہے اور انہیں کورونا وائرس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر بتانے کے ساتھ ساتھ ان میں حفاظتی سامان بھی تقسیم کر رہی ہے۔

یہ لڑکی انیس سالہ ماہ نور شکیل ہیں جو عبدالولی خان یونیورسٹی کی سیکنڈ سمسٹر کی طالبہ ہیں لیکن سوچ بہت آگے کی رکھتی ہیں۔

ماہ نور نے ضلع مردان میں رضاکار نوجوانوں کی ایک ٹاسک فورس بنائی ہے اور صرف 4 مہینوں میں 1500 رضاکار اس کا حصہ بن چکے ہیں۔ یوتھ والنٹئیر ٹاسک فورس نامی یہ تنظیم فی الوقت ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے کورونا وائرس کے حوالے سے مردان کے لوگوں میں شعور بیدار کر رہی ہے اور حفاظتی سامان تقسیم کر رہی ہے لیکن ماہ نور کے مطابق ان کی تنظیم صرف اس ایک کمپین تک محدود نہیں ہے۔

کورونا کے خلاف ٹاسک فورس کی اس رواں مہم کی دیکھ بھال ماہ نور شکیل خود کر رہی ہیں اور دیگر رضا کاروں کے ساتھ نہ صرف گھر گھر جاتی ہیں بلکہ روایات کے برعکس وہ شاپنگ مالز اور مارکیٹوں میں دوکانداروں، سڑک پر جاتے لوگوں، ٹریفک اہلکاروں اور حتٰی کے خواجہ سراؤں کے ڈیروں پر جانے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کر رہیں اور انہیں اس وباء کے بارے میں حفاظتی اقدامات و تدابیر سمجھاتی ہیں۔

ٹرائبل پریس سے بات کرتے ہوئے ماہ نور شکیل نے کہا کہ کورونا کیخلاف مہم کے علاوہ یوتھ والنٹیئرز ٹاسک فورس اس لاک ڈاؤن سے متاثرہ خاندانوں میں فوڈ پیکجز بھی تقسیم کر رہی ہے اور اب تک ضلع کے مختلف علاقوں میں سو سے زائد خاندانوں کی اعانت کرچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وائرس سے بچاؤ کے لئے پولیس اہلکار اور عام لوگوں میں حفاظتی سامان وہ ڈپٹی کمشنر کی طرف سے تقسیم کر رہی ہیں لیکن فوڈ پیکجز کے لئے ٖٹاسک فورس کے رضاکاروں نے خود چندہ جمع کیا ہوا ہے۔ ‘رمضان میں ابھی ہمارا ارادہ ہے کہ رمضان دسترخوان شروع کریں جس میں کورونا وائرس کے پیش نظر اکٹھے افطار کا اہتمام تو نہیں کر سکیں گے لیکن ضلع کے مخلتف قرنطینہ مراکز اور یتیم خانوں کو کھانے کے پارسل مہیا کئے جائیں گے’ ماہ نور نے بتایا۔

یوتھ والینٹیئر ٹاسک فورس مردان کے دیگر کاموں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ سلائی کڑھائی کی شوقین خواتین یا چھوٹے موٹے کام کرنے کے خواہش مندوں کے لئے مراکز اور روزگار کا بندوبست بھی کرتی ہیں اور اس سلسلے میں صاحب ثروت لوگوں سے چندہ جمع کرتی ہیں۔ کورونا کے علاوہ یہ ٹاسک فورس ڈینگی اور دوسری بیماریوں کے حوالے سے بھی لوگوں میں آگاہی مہم چلاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹاسک فورس بنانے کا خیال انہیں اس لئے آیا کہ مردان کے زیادہ تر نوجوان جو خدمت خلق کا جذبہ رکھتے ہیں ان کے لئے مردان میں کوئی پلیٹ فارم نہیں تھا اور وہ پشاور کے ڈپٹی کمشنر کی رضاکار ٹاسک فورس کا حصہ بنے ہوئے تھے جہاں مسلسل آنا جانا ان کے لئے مسئلہ بنا ہوا تھا۔ ‘مجھے خود بھی عوام کی خدمت اور بالخصوص نوجوان طبقے کے لئے کچھ کرنے کا شوق تھا تو اسی لئے میں نے یہ ٹاسک فورس قائم کی کہ اس سے نہ صرف خدمت خلق کے جذبے سے سرشار نوجوانوں کو پلیٹ فارم مہیا ہوگا بلکہ ہم اس میں نوجوانوں کیلئے مختلف تربیتی ورکشاپس بھی منعقد کرا رہے ہیں’ ماہ نور شکیل نے کہا۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ وقت میں اجتماعات پر پابندی کی وجہ سے انہوں نے چند ہفتے پہلے نوجوانوں کے لئے مختلف قسم کی آن لائن ٹریننگز کا انعقاد بھی کیا تھا جن میں آن لائن کاروبار کے حوالے سے تربیت میں نوجوانوں نے بہت دلچسپی لی۔ اس تربیتی سیشن میں یونیورسٹی کے نامور ماہرین اور اساتذہ نے نوجوانوں کو آن لائن کاروبار کے طور طریقے سکھائے۔