دیرکی سارا جہاں خان نے ورلڈ فلم فیسٹیول میں پہلا انعام جیت لیا

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

پاکستانی آکسفورڈ یونیورسٹی کی طالبہ سارہ جہاں خان ایک ایوارڈ یافتہ فلمساز ہیں اور حال ہی میں انہوں نے انٹرنیشنل گرلز امپیکٹ ورلڈ فلم فیسٹیول میں پہلا انعام جیتا ہے جو فلم کے ذریعے نوجوانوں کی آواز کو اٹھاتا ہے۔

پاسون سارہ کی ایک مختصر فلم ہے جو خیبرپختونخوا کے ضلع دیر کی ایک نوجوان موسمیاتی کارکن پر مبنی ہے جس کا نام منال شاد ہے۔پاسون پشتو زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی ہے کسی مقصد کے لیے اٹھنا۔

فلم میں پاکستان سے دیسی اور جدید استحکام کے طریقوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور نوجوان پاکستانی خواتین کی آواز کا جشن منایا گیا ہے جن کو موسمیاتی تبدیلی کی تحریک میں بین الاقوامی سطح پرنظر انداز کیا جاتا ہے۔

اس فلم نے بین الاقوامی گرلز امپیکٹ ورلڈ فلم فیسٹیول میں پہلا انعام جیتا ہے جو فلم کے ذریعے نوجوانوں کی آواز کو پہنچاتا ہے تاکہ پوری دنیا میں خواتین اور لڑکیوں کو درپیش اہم مسائل کو اجاگر کیا جاسکے۔

ججوں میں نوبل انعام یافتہ محمد یونس ، پارٹسپینٹ میڈیا جیف سکول کے بانی، سکرین رائٹر رچرڈ کرٹس  اور سپر ماڈل کرسٹی ٹورلنگٹن برنس شامل ہیں۔ سارہ جہاں خان اس وقت آکسفورڈ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں۔