ملک میں کورونا کی بگڑتی صورتحال، متاثرین 11 ہزار 57، اموات 544

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

ملک بھر میں کورونا وائرس کے شکار افراد کی تعداد 11 ہزار 57 ہو گئی ہے، جب کہ 544 مریض جاں بحق ہو چکے ہیں۔ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کورونا کی تشخیص کے لیے مجموعی طور پر ایک لاکھ 24 ہزار 549 ٹیسٹ کیے گئے جن میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کیے گئے ٹیسٹ کی تعداد 6 ہزار 700 ہے۔ ایک دن میں کورونا کے 544 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے بعد پاکستان میں اس وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 11 ہزار 57 ہو گئی۔

ملک میں کورونا وائرس سے 2337 مریض صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔ پنجاب میں کورونا وائرس کے سب سے زیادہ 4767 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، اس کے علاوہ سندھ میں 3671، خیبرپختونخوا 1453، بلوچستان 607، گلگت بلتستان میں 290، اسلام آباد میں 214 جب کہ آزاد کشمیر میں کورونا وائرس کے 55 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔

نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرکے مطابق ملک میں کورونا نے مزید 11 افراد کی جان لے لی جس کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 544 ہو گئی۔

خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد 83 ہے، سندھ 73، پنجاب 65، بلوچستان میں 8 جب کہ اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں کورونا وائرس سے 3، 3 مریض جاں بحق ہوئے ہیں۔

کورونا کے حوالے سے نامور عالم دین مولانا طارق جمیل نے کہا ہے کہ کورونا آسمانی آفت ہے ہم اس سے لڑ نہیں سکتے، ہمیں اپنے رب کو عاجزی کے ساتھ  منانا ہے۔ مولانا طارق جمیل نے کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے لیے جاری ’’احساس ٹیلی تھون‘‘ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ قوم جھوٹ، بد دیانتی اور بے حیائی چھوڑ دے، اللہ تعالیٰ نے چھوٹے سے وائرس سے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اللہ تعالی کے سامنے جھکنا ہے تا کہ وہ ہم پراپنا فضل کرے، یکم رمضان کی رات پوری قوم 2 نفل پڑھ کر دعا کرے، غرباء کو گھروں میں جاکر زکوۃ دی جائے۔

علاوہ ازیں کورونا کے باعث ٹرین آپریشن کی معطلی سے پاکستان ریلوے کو 5 ارب 26 کروڑ کا نقصان ہوا ہے، مسافر ٹرینوں کی بندش سے ریلوے کو 3 ارب 20 کروڑ کا نقصان ہواجب کہ مال بردار گاڑیوں کی بندش سے ریلوے کو 2 ارب 10کروڑ سے زائد کا نقصان پہنچا ہے، ٹرین آپریشن کی معطلی سے پاکستان ریلوے کو یومیہ ساڑھے 15 کروڑ کا نقصان ہو رہا ہے۔

پنجاب میں کورنا کی صورتحال خطرناک صورت اختیار کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں پنجاب حکومت کا اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں وزیر قانون راجہ بشارت، چیف سیکرٹری اعظم سلیمان، سیکرٹری داخلہ مومن آغا اور دیگر نے شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق لاک ڈاؤن کو صوبے میں مزید 1 ہفتہ بڑھانے کی سفارش کردی گئی۔

حکومت نے رمضان المبارک کے دوران کورونا سے بچنے کے لیے عبادات سمیت مختلف شعبوں کے لیے احتیاطی تدابیر پر مشتمل رہنما اصول جاری کردیے ہیں۔ جس کے تحت مساجد میں 50 سال سے زیادہ عمر کے افراد اور بچوں کی اجازت نہیں ہوگی، رمضان المبارک کے دوران مساجد کا رخ کرنے والوں کے لیے گھر سے وضو کرکے آنا، باجماعت نماز اور تراویح کے لیے صفوں کے درمیان چھ فٹ کا فاصلہ رکھنا، سحر و افطار کے اجتماعات نہیں ہوں، قالین یا چٹائی اٹھا کر فرش کو باقاعدگی سے کلورینٹڈ پانی سے دھونا ہو گا۔ اعتکاف کے خواہش مند گھر پر ہی اعتکاف بیٹھیں گے۔