حکومت کے نزدیک روزگار سے زیادہ انسانی جانوں کو بچانا اہم ہے

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ صوبے میں لاک ڈائون اور کورونا وائرس سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر سے متعلق فیصلے وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر متفقہ طور پر کئے گئے ہیں, کورونا کے موجودہ بحران میں حکومت کے نزدیک روزگار سے زیادہ انسانی جانوں کو بچانا زیادہ اہم ہے تاہم حکومت کولاک ڈائون سے متاثرہ تاجروں اور ان کے ملازمین کی مشکلات کا بھی پورا احساس ہے، حکومت اپنے وسائل کے مطابق ان کی ہر ممکن مدد کر رہی ہے جبکہ تاجروں کے بند کاروبار کھولنے کے لیے بھی لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کورونا کے مریضوں کے علاج کے لیے ہسپتالوں اور طبی عملے کی تمام ضروریات پوری کی جائیں گی۔

یہ یقین دہانی انہوں نے مانسہرہ میں قرنطینہ مرکز اور کنگ عبداللہ ہسپتال کے دورے کے بعد سرکٹ ہاؤس میں کورو ناکی صورتحال اور اس سے بچاؤ کے اقدامات ،آٹے سمیت تمام ضروری اشیائے خوردنی کی قیمتوںو دستیابی اور صحت کی سہولیات سے متعلق ضلعی انتظامیہ کی بریفنگ کے دوران کرائی۔

خیبر پختونخوا کے چیف سیکر ٹری ڈاکٹر کاظم نیاز، ایم این اے صالح محمد خان، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی سید احمد حسین شاہ، ارکان صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی، نوابزادہ فرید صلاح الدین، لائق محمد خان ،سیکرٹری صحت سید امتیاز حسین شاہ اور ضلعی انتظامیہ و محکمہ صحت کے افسران نے بھی بریفنگ میں شرکت کی جبکہ ڈپٹی کمشنر مانسہرہ کیپٹن (ر) اورنگزیب حیدر نے وزیر اعلیٰ کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے ضلع مانسہرہ میں قائم کئے گئے قرنطینہ وآئسولیشن مرا کز سمیت کورونا وباء کی صورتحال، ضروری اشیائے خوردنی اور صحت کی سہولتوں کی صورتحال واضح کی۔

وزیر اعلیٰ محمود خان نے کورونا وائرس سے بچاؤ کی کوششوں میں محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ سمیت لازمی خدمات انجام دینے والے محکموں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے خصوصی طور پر محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ وہ قرنطینہ مراکز اور آئسولیشن وارڈز میں ضروری طبی عملے کی 24 گھنٹے موجودگی کو یقینی بنائے جبکہ کو رونا ٹیسٹ کے لیے ہزارہ میں لیبارٹری کی سہولت مہیا کردی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کنگ عبداللہ ہسپتال کو ضروری آلات و دیگر مطلوبہ سامان خرید کر فراہم کردیا گیا ہے جبکہ آئی سی یوکا سامان بھی خریداری کے مراحل میں ہے۔

محمود خان نے ضلعی ہسپتال میں پہلے سے منظور شدہ سینٹرل آکسیجن سسٹم جلد نصب کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع کے مختلف بنیادی مراکز صحت کو نئے بھرتی شدہ ڈاکٹر فراہم کردیئے گئے ہیں جبکہ ایم پی اے نوابزادہ فرید کے حلقے میں نو بی ایچ یوز کے لئے ڈاکٹرز بھی جلد مہیا کئے جائیں گے۔

انہوں نے ڈوڈیال میں بی ایچ یو کے قیام کے علاوہ اوگی اور بالاکوٹ کے زیر تعمیر ہسپتالوں کے لئے فنڈز فراہم کرنے اور کورونا بحران کے بعد پورے صوبے میں صحت کی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے اقدامات کی یقین دہانی بھی کرائی۔

وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر آٹے کی وافر مقدار میں دستیابی اور اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں کمی پر بھی اطمینان کا اظہار کیا تاہم انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ مستقبل کی ضروریات کے لئے گندم کی خریداری کا ہدف پورا کرے اور پنجاب سے گندم کی درآمد پر انحصار نہ کیا جائے۔

وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کورونا کے مریضوں کو کسی ممکنہ سہولت کی کمی نہیں ہونی چاہیے جبکہ تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے کورونا کے مریضوں کا خاص خیال رکھا جائے اور ضلع میں موجود تبلیغی جماعت کے غیرملکی مریضوں کو جلد ان کے ممالک واپس بھجوانے کے اقدامات کیے جائیں۔

ڈپٹی کمشنر کپٹن (ر) اورنگزیب حیدر نے بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ ضلع مانسہرہ میں اس وقت کورونا کے کل 245 مریض سامنے آئے ہیں جن میں سے 58 میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے اور پانچ مریض جاں بحق ہوئے جبکہ 166 کے ٹیسٹ نیگیٹیو آئے ہیں، 14 مریضوں کے ٹیسٹ کے نتائج کا انتظار ہے اور پانچ مریض صحت یاب ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان میں سے 61 کورو نا متاثرین کا تعلق تبلیغی جماعت سے ہے جن میں 41 غیر ملکی مبلغین بھی شامل اور 20 کے ٹیسٹ پازیٹو آئے ہیں، ضلع میں آٹھ قرنطینہ اور آٹھ آئسولیشن مراکز قائم کیے گئے ہیں، اب تک احساس پروگرام کے تحت 42 ہزار مستحقین کو امدادی رقوم ادا کردی گئی ہیں اور ضلع میں جنوری کے مقابلے میں ضروری اجناس کی قیمتیں کم ہوئی ہیں۔

اس سے قبل وزیراعلیٰ محمود خان نے گورنمنٹ ایلمینٹری کالج غازی کوٹ مانسہرہ میں قائم قرنطینہ مرکز اور کنگ عبداللہ ہسپتال کا دورہ بھی کیا اور وہاں مریضوں کو فراہم کی گئی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔

بریفنگ کے دوران مانسہرہ کے ارکان صوبائی اسمبلی نے آٹا بحران، احساس پروگرام اور کورونا کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ سمیت تمام متعلقہ محکموں کی کارکردگی کو مثالی قرار دیا اور وزیراعلیٰ کو اپنے اپنے حلقوں میں صحت کے شعبہ سے متعلق مسائل سے آگاہ کیا۔