کاغذات مال کی رو سے زمینیں طوری قوم کے حوالے کی جائیں، قبائلی جرگہ

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

پاراچنار میں منعقدہ جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے طوری قوم کے حمزہ خیل مستو خیل کے عمائدین ڈاکٹر حاجی سید حسین، ملک حاجی طاہر حسین، ملک حاجی انور حسین، ملک سید جوہر حسین، ملک رحمت علی، فدا حسین، نور عالم خان، ملک جمال، صوبیدار نبی حسین اور عسکر علی نے کہا کہ قومی شاملات کی تقسیم کیلئے 1987 میں حکومت نے کمیشن مقرر کیا.

کمیشن نے پڑتال کرکے یہ زمین حمزہ خیل مستو خیل کے کل 23 پلارینو پر تقسیم کیا جبکہ ان پلارینو کے اندرونی تقسیم ہم نے اس وقت نہیں کی، لوگوں نے اپنے حصوں سے زائد قبضے کرنا شروع کردئیے جبکہ بنگش قوم نے ہمارے وسیع رقبے پر قبضہ کرلیا ہے اور بدقسمتی سے وہ ہماری زمین پر آپس میں لڑرہے ہیں، جس کا ثبوت گذشتہ دنوں ان لوگوں کے درمیان لڑائی ہے، یہ زمین حمزہ خیل اور مستو خیل اقوام کی ہیں.

حکومت اور دیگر اعلیٰ حکام کاغذات مال کی رو سے یہ زمین طوری قوم کے حوالے کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ذمہ دار حکام اس تنازعہ کو حل کرنے کیلئے سنجیدگی سے کا مظاہرہ نہیں کررہے ہیں.

انہوں نے کہا کہ حکومت طوری قوم کی زمینوں کی حد بندی کر چکی ہے لہذا جو لوگ طوری قوم کی زمینوں پر آپس میں الجھ رہے ہیں ان کو روک دیا جائے اور اس مسئلے کا بہترین حل یہ ہے کہ حکومت مذکورہ زمین کاغذات مال کے مطابق طوری حوالے کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے تاکہ اس پر مزید خونریزی نہ ہو۔