ضلع خیبر میں افغانستان سے آنیوالے افراد کیلئے 7 قرنطینہ سنٹرز قائم

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ اجمل خان وزیر نے کہا ہے کہ ضلع خیبر میں افغانستان سے واپس آنے والے افراد کے لیے سات قرنطینہ سنٹرز قائم کیے گئے ہیں، جس میں تقریباً 1500 افراد کی گنجائش موجود ہے اور اب تک افغانستان سے 713 افراد آئے ہیں، جو کہ قرنطینہ سنٹرز میں ہیں۔

افغانستان سے آنے والے افراد کو پہلے قرنطینہ سنٹرز پھر آئسولیشن اور اس کے بعد ہائی ڈیپنڈنسی یونٹس میں رکھا جائے گا۔  ابھی تک صوبہ بھر میں کرونا کے 1137 مثبت کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، جبکہ 226 افراد صحتیاب ہوگئے ہیں، 60 افراد کی کرونا کی وجہ سے اموات ہوئی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمرود فورٹ ضلع خیبر میں قرنطینہ سنٹر جو 30 دن کی ریکارڈ مدت میں مکمل کیا گیا، کا افتتاح کرتے ہوئے کیا۔ ڈپٹی کمشنر ضلع خیبر محمود اسلم وزیر نے مشیر اطلاعات کو قرنطینہ سنٹرز میں موجود سہولیات اور دیگر ضروریات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ افغانستان سے آنے والے افراد بشمول یو اے ای سے آنے والے لوگوں کے لیے بھی خصوصی انتظامات کرچکے ہیں، ہم اپنے بھائیوں کو تمام تر سہولیات ان قرنطینہ سنٹرز میں فراہم کر رہے ہیں جبکہ جلال آباد قونصلیٹ میں بھی کیمپ آفس قائم ہے۔

اجمل وزیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ محمود خان تمام اقدامات اور سہولیات کی خود مانیٹرنگ کر رہے ہیں اور انہوں نے مختلف اضلاع کے دورے بھی کئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں احتیاط کرنا ہوگی، سماجی رابطوں میں کمی اور حکومت کی مقرر کردہ ہدایات پر عمل کرنا ہوگا۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دی جانیوالی تمام سہولیات اور حفاظتی سامان بشمول دیگر اقدامات کی تعریف کی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں اشیائے خورد و نوش موجود ہیں، ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف ایکشن لیا جائیگا۔ وزیراعلیٰ محمود خان کی خصوصی ہدایت پر تبلیغی حضرات کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں، ٹیسٹ نیگیٹو آنے اور بیرون ملک سے آنے والے تبلیغی حضرات کے لئے بھی انتظامات کر رہے ہیں۔