وانا میں پھنسے افغان مہاجرین کا احتجاج

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

قبائلی جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں پھنسے ہوئے افغان شہریوں نے رستم اڈہ میں احتجاجی جلوس نکالا اور بعدازاں دھرنا دیا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ سرحد کی بندش کے باعث انہیں مالی مشکلات کے ساتھ ساتھ طرح طرح کے مسائل کا سامنا ہے اس لئے انہیں اپنے ملک افغانستان جانے کی اجازت دی جائے۔

بعدازاں مقامی مشران کی سربراہی میں مطاہرین اور ضلعی انتظامیہ کے درمیا مذاکرات ہوئے جس میں انہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ جلد ان کے ملک واپسی کی کوئی سبیل نکال لی جائے گی۔

اس موقع پر انتظامیہ نے یقین دلایا کہ افغانستان جانے والے سینکڑوں مہاجرین کی فہرستیں تیار کی جائیں گی اور ان کی ملک واپسی کو یقینی بنایا جائے گا۔

دوسر جانب مظاہرین نے واضح کیا کہ ان کا مطالبہ پورا نہیں ہوا تو وہ ایک بار پھر احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔

یاد رہے کہ 15 مارچ کو وزارت داخلہ نے طورخم سمیت افغانستان اور ایران کے ساتھ تمام مغربی بارڈرز بند کرنے کے احکامات جاری کئے تھے، 10 اپریل کو 24ویں دن کھول دیا گیا، دفتر خارجہ کے مطابق افغانستان حکومت کی خصوصی درخواست و جذبہ خیرسگالی کی تحت تجارت بحال کیا گیا۔

یہ بھی یاد رہے کہ 21 مارچ کو چمن میں پاک افغان سرحد باب دوستی کو 20 روز بعد یک طرفہ تجارت کے لیے کھول دیا گیا تھا تاہم اگلے ہی روز یہ سرحد بھی دوبارہ بند کر دی گئی تھی۔

اپریل کے آغاز میں حکومت پاکستان کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ ملک میں پھنسے افغان پناہ گزینوں کی واپسی کیلئے 6 تا 9 اپریل سرحد کوھلی جائے گی، اعلان کے ساتھ ہی طورخم بارڈر پر انسانوں کا سیلابامڈ آیا تھا۔
16 اپریل کو تاجر برادری ضلع بنوں کے رہنما غلام قیباز خان نے بھی غلام خان بارڈر نہ کھولنے کی صورت میں پرامن احتجاجی تحریک چلانے کی دھمکی دی تھی اور کہا تھا کہ چمن اور طور خم کاراستہ تجارت کیلئے کھول دیا گیا ہے لیکن واحد راستہ غلام خان جو ابھی تک بند ہے یہ سر اسر ظلم و زیادتی ہے۔