دیر لوئر میں کورونا کا ایک اور مریض جاں بحق، ضلع میں تعداد 5 ہو گئی

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

ضلع دیر لوئر اور ضلع مہمند میں کورونا وائرس کے مزید نئے کیسز سامنے آ گئے جبکہ لوئر دیر میں 65 سالہ ایک اور شخص اس موذی مرض میں مبتلا ہو کر جان کی بازی ہار گیا جس کے ساتھ ضلع میں جاں افراد کی تعداد پانچ ہو گئی۔

جاں بحق مریض کا تعلق تیمرگرہ کے نواحی علاقے پیٹو یار خان بانڈہ سے ہے جو وائرس کی تصدیق کے بعد پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں زیرعلاج تھا۔

نمائندہ ٹرائبل پریس کے مطابق دیر لوئر میں کورونا کے مزید 3 کیسز سامنے آئے ہیں جن میں ایک غیرملکی بھی شامل ہے۔

ڈپٹی ڈی ایچ او فوکل پرسن ڈاکٹر ارشاد علی کے مطابق ضلع دیر لوئر میں ابھی تک 253 مشتبہ مریضوں میں سے 204 مریضوں کے رزلٹس موصول ہوئے ہیں جن میں 175 کلیئر قرار دیئے گئے، 29 مریضوں میں کرونا بیماری کی تصدیق ہو چکی ہے جب کہ 49 مریضوں کے رزلٹس آنا باقی ہیں۔

یاد رہے کہ 27 مارچ کو ضلع لوئر دیر سے کورونا وائرس کا پہلا کیس رپورٹ ہوا تھا، مریضہ کی کورونا سے مبینہ طور پر موت واقع ہو گئی تھی۔

اس کے بعد 7 اپریل کو لوئر دیر میں کورونا وائرس سے متاثر 73 سالہ شخص زندگی کی بازی ہار گیا تھا جس کے ساتھ ضلع میں کورونا وائرس کے باعث جاں بحق ہونے والوں کی تعداد دو ہو گئی۔

دوسری جانب ضلع مہمند سے کورونا وائرس کے مزید دو کیسز سامنے آئے ہیں، کورونا وائرس سے جاں بحق سمیت متاثرہ افراد کی تعداد تین ہو گئی۔

نمائندہ ٹرائبل پریس  کے مطابق گزشتہ روز تحصیل حلیم زئی میاں منڈی خواجہ وس کا رہائشی لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں انتقال کر گیا تھا جس کے بعد انتظامیہ اور محکمہ صحت نے متاثرہ خاندانوں کو قرنطینہ قرار دیا اور متاثرہ جاں بحق شخص سے مل جل کر رہنے والے آٹھ افراد کے نمونے ٹسٹ کے لئے بھیجے گئے تھے جن میں سے دو افراد کے ٹسٹ مثبت آئے ہیں۔

متاثرہ افراد میں متوفی کی 80 سالہ بیوی اور 38 سالہ بیٹا خیر اللہ شامل ہیں۔

انتظامیہ اور محکمہ صحت نے سخت اقدامات اٹھا رکھے ہیں اور میاں منڈی کو مکمل طور پر لاک ڈاون کیا ہے، علاوہ ازیں متاثرہ خاندان سے ملحقہ علاقے کے لوگوں کو احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنے کی اپیل کی گئی ہے اور متوفی کی نماز جنازہ میں شریک افراد کو مکمل قرنطینہ میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اس وقت ملک بھر میں کورونا وائرس سے 137 افراد جاں بحق جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 7291 تک جا پہنچی ہے، سب سے زیادہ ہلاکتیں 47 سندھ میں جبکہ 45 اموات کے ساتھ خیبر پختونخوا دوسرے نمبر پر ہے۔