مہمند – باجوڑ حد بندی تنازعہ، دونوں طرف سے افراد جمع ہونا شروع

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

مہمند باجوڑ زمین تنازعے نے شدت اختیار کرلی ہے جس سے خونریزی کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مہمند میں ساگی کے مقام پر پانچ ہزار سے زیادہ افراد جمع ہوگئے ہیں جبکہ مزید لوگ بھی اس میں شامل ہورہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ لوگ جمع ہونے کے بعد باجوڑ کی طرف مارچ کرینگے۔

دوسری طرف لشکر کشی کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے اور اپنے تحفظ کیلئے تحصیل نواگئی میں بھی مسلح لوگ پہاڑوں کا رخ کرنے لگے ہیں۔

دوںوں اضلاع کے نوجوانوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ بھی قسم کی ناخوشگوار واقعہ پیش آنے سے پہلے اس کے روک تھام کیلئے تمام تر ضروری اقدامات اٹھائیں، ورنہ اس کی ذمہ داری ان اداروں پر ہوگی۔

مہمند اور باجوڑ کے لوگوں کے درمیان متنازعہ زمین پر حالیہ کشیدگی پچھلے کئی دنوں سے جاری ہیں جن میں دونوں اطراف قبائل نے الگ الگ دھرنے بھی دئے جس کو انتظامیہ کی جانب سے ختم کرایا گیا تاہم دونوں اطراف سے کشیدگی کم ہونے کی بجائے مزید بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔

تنازعے کے حل کے لئے حکومتی جرگہ ناکام ہوچکا ہے جس کے بعد سے کئی پختون لیڈران نے بھی ان کے درمیان ثالثی کی کوشش کی ہے لیکن ابھی تک کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔

آخری اطلاعات کے مطابق ضلع خیبر کے سابقہ ایم این اے الحاج شاہ جی گل بھی اس سلسلے میں مصروف عمل ہیں اور گزشتہ روز انہوں نے باجوڑ کے مشران سے تنازعہ کے حل کے لئے اختیار لیا تھا لیکن مہمند قبائل نے انہیں اپنا اختیار دینے سے انکار کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ باجوڑ اور مہمند قبائل کے درمیان 51 سال بعد ایک بار پھر حدبندی کے تنازعے نے شدت اختیار کرلی ہے جبکہ اس ضمن میں تشکیل پانے والا جرگہ ناکامی سے دوچار ہو چکا ہے۔

جرگہ کی ناکامی کے بعد صوبائی حکومت نے ایک اعلیٰ سطحی کمیشن تشکیل دے دیا ہے لیکن باجوڑ کے عوام نے اس وقت تک کمیشن کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے جب تک مہمند مظاہرین کی جانب سے ان پر بند کیا گیا پشاور روڈ کھولا نہیں جاتا۔