پاکستان میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد 100 ہو گئی

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

پاکستان میں کورونا وائرس سے آج اب تک مزید 4 ہلاکتوں کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 100 جبکہ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد متاثرہ مریضوں کی تعداد 5812 ہو گئی۔

ملک میں ہونے والی 100 ہلاکتوں میں سے سب سے زیادہ ہلاکتیں سندھ اور خیبرپختونخوا میں 35، 35 ہیں، پنجاب میں 24، بلوچستان میں 2، گلگت 3 اور اسلام آباد میں ایک ہلاکت ہو چکی ہے۔

آج بروز منگل ملک میں اب تک کورونا کے مزید 269 کیسز سامنے آئے ہیں اور 4 ہلاکتیں بھی رپورٹ ہوئی ہیں، چاروں ہلاکتیں سندھ میں ہوئیں جبکہ 66 کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب سے 200 اور آزاد کشمیر سے 3 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں پیر کو 56 نئے کیسز اور ایک ہلاکت سامنے آئی تھی۔ صوبے میں ہلاکتوں کی کُل تعداد 35 جبکہ کیسز کی مجموعی تعداد 800 ہوگئی ہے۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس کے باعث وفاقی کابینہ نے لاک ڈاؤن میں 30 اپریل تک توسیع کی منظوری دی ہے تاہم لاک ڈاؤن میں توسیع کی حتمی منظوری قومی رابطہ کمیٹی دے گی۔

آج وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں لاک ڈاؤن میں لاک ڈاؤن کے بعد کھلنے والے شعبوں سے متعلق قوائد و ضوابط بھی طے کرلیے گئے۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے ہنرسے متعلق تجارت اور کاروبار بھی کھولنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد درزی، پلمبر، الیکٹریشن، مکینک اور حجام کے کاموں پر کوئی پابندی نہیں ہوگی، فضائی سفر اور پبلک ٹرانسپورٹ سمیت عوامی اجتماعات، شادی ہالز، سینماز اور عوامی مقامات بند رہیں گے۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز سپریم کورٹ  میں کورونا وائرس ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی تھی جس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کو عہدے سے ہٹانے کی ہدایت کی گئی تھی۔

چیف جسٹس نے حکومت پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ وزراء اور مشیروں کی فوج در فوج ہے مگر کام کچھ نہیں، مشیروں کو وفاقی وزراء کا درجہ دے دیا، مبینہ طور پر کرپٹ لوگوں کو مشیر رکھا گیا، اس وقت ظفر مرزا کیا ہے اور اس کی کیا صلاحیت ہے؟ ہم نے حکم دیا تھا کہ پارلیمنٹ قانون سازی کرے، پوری دنیا میں پارلیمنٹ کام کررہی ہیں، عدالت کے سابقہ حکم میں اٹھائے گئے سوالات کے جواب نہیں آئے اور ظفر مرزا نے عدالتی ہدایات پر عمل نہیں کیا، کابینہ کا حجم دیکھیں، 49 ارکان کی کیا ضرورت ہے؟ مشیر اور معاونین نے پوری کابینہ پر قبضہ کر رکھا ہے، اتنی کابینہ کا مطلب ہے کہ وزیراعظم کچھ جانتا ہی نہیں، ظفر مرزا کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔