کورونا کے وار : مرغوں کی لڑائی اور والی بال میچز ایک ساتھ جاری

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

دنیا بھر میں اس وقت 17 لاکھ سے زائد لوگ کوروونا وائرس میں مبتلا جبکہ اس مہلک بیماری کے باعث موت کو گلے لگانے والوں کی تعداد بھی ایک لاکھ سے زائد ہو گئی ہے، پاکستان میں متاثرہ افراد ی تعداد 4 ہزار 9 سو سے زائد ہو گئی ہے اور اب تک 80 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

لوئر دیر علاقہ میدان میں کو رونا وائرس سے ایک اور شخص جاں بحق ہو گیا جس کے ساتھ ضلع میں جاں بحق افراد کی تعداد چار جبکہ صوبہ بھر میں 26 ہو گئی۔

قبل ازیں نوشہرہ میں آج کورونا وائرس سے دو مریض جاں بحق ہوئے تھے۔ ڈپٹی کمشنر نوشہرہ شاہد علی خان کے مطابق نوشہرہ میں کورونا وائرس سے جاں بحق مریضوں کی تعداد تین ہوگئی۔

لوئر دیر کے ڈپٹی ڈی ایچ او اور فوکل پرسن ڈاکٹر ارشاد علی نے مزید چار مریضوں میں کورونا وائرس کی تصدیق کی اور کہا کہ میدان کے رہائشی عبدالزرین ولد محمد زرین سکنہ زیانڑئی تحصیل لعل قلعہ جو گزشتہ روز انتقال کرگئے تھے اس کا کرونا ٹسٹ پازٹیو آیا ہے۔

فوکل پرسن کے مطابق ابھی تک 145 مشتبہ مریضوں میں سے 115 کے رزلٹس موصول ہوئے ہیں جن میں 94 مریض کلیئر، 21 مریضوں میں کورونا بیماری کی تصدیق ہوئی جبکہ 30 مریضوں کے رزلٹس آنا باقی ہیں۔

دوسری جانب ضلع میں کورونا بیماری سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 4 ہو گئی ہے جبکہ آٹھ مزید مریضوں کی حالت بھی بہتر ہے جن کے دوبارہ ٹسٹ آج لیبارٹری بھجوائے گئے ہیں، آئسولیشن وارڈ میں داخل مریضوں کی حالت خطرے سے باہر جبکہ دو مریض پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں داخل ہیں اور ان کی حالت پہلے سے قدرے بہتر ہے۔

دوسری جانب شانگلہ میں مزید پانچ افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے ساتھ ضلع میں کورونا وائرس سے تاثرہ مریضوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے جبکہ اب تک ایک شخص جاں بحق  ہوا ہے۔

ڈپٹی کمشنر شانگلہ عمران حسین رانجھا کے مطابق شانگلہ میں مجموعی طور پر 102مشتبہ کیسز رپورٹ ھوئے جن میں سے 72 کے ٹیسٹ رزلٹ منفی آئے ہیں.

خیال رہے کہ پنجاب سے اب تک سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن کی تعداد 2410 ہے، 1318 کیسز کے ساتھ سندھ دوسرے، 656 کیسز کے ساتھ خیبر پختونخوا تیسرے نمبر پر ہے جبکہ بلوچستان میں 220، گلگت بلتستان میں 215، آزاد کشمیر میں 34 اور اسلام آباد میں اب تک 118 کیسز سامنے آئے ہیں۔

اسی طرح سب سے زیادہ ہلاکتوں-28- کے ساتھ سندھ پہلے جبکہ 26 اموات کے ساتھ خیبر پختونخوا دوسرے نمبر پر ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ محولہ بالا تعداد میں صوبوں اور وفاق کے درمیان اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔

یہ تو تصویر کا ایک رخ ہوا تاہم بدقسمتی سے تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ امریکہ ہو یا برطانیہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے فیصلے اور ججاری احکامات کے فاذ مین مشکل پیش آ رہی ہے، وطن عزیز خصوصاً خیبر پختونخوا کے حوالے سے صورتحال اور بھی خوفناک ہے جہاں کہیں والی بال کھیلا جا رہا ہے تو کہیں مرغے لڑائے جا رہے ہیں۔

اس پر مستزاد یہ کہ عوام تو ایک طرف خود حکمران اور حکمران جماعت کے عہدیدار اور رہنماء حکومتی احکامات کی دھجیاں اڑاتے نظر آرہے ہیں۔ دوسری جانب انتظامیہ کہیں کہیں عوام کیخلاف کارروائیوں میں تو مصروف ہے لیکن خواص کے سامنے مکمل طور پر بے بس نظر آتی ہے۔

نوشہرہ کی انتظامیہ نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر 35 افراد کو گرفتار کیا ہے تو نوشہرہ ہی میں مرغے لڑانے پر 3 ملزمان کو گرفتار بھی کیا گیا ہے

نمائندہ ٹرائبل پریس  کے مطابق اکبرپورہ پولیس نے مرغوں کے ذریعے لگائی گئی قمار بازی کی محفل الٹ دی، داؤ پر لگی ہزاروں کی رقم, موٹرکار اور موٹر سائیکلیں قبضہ میں لے کر ملزمان کو گرفتار کر لیا جبکہ کئی فرار ہونے مئیں کامیاب ہو گئے۔

اسی طرح ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے تحصیل جہانگیرہ کے بازاروں میں بلاضرورت گھروں سے نکلنے والوں کیخلاف کریک ڈاون کیا اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر 35 افراد گرفتار کر لیا۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر مس وزیر اور اسسٹنٹ کمشنر جہانگیرہ سمن عباس کے مطابق گرفتار افراد کیخلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، صوبائی حکومت کے احکامات کی روشنی میں ضلع بھر میں رش اور بلاضرورت گھومنے پر دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد ہے۔

تاہم اسی نوشہرہ میں ایک رکن صوبائی اسمبلی نے احساس پروگرام کے ایک مرکز کا دورہ کر کے صوبائی حکومت کی اس پابندی کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم عمران خان کے واضح احکامات کی بھی دھجیاں اڑا دیں۔

وزیراعظم کی جانب سے ہدایت کی گئی ہے کہ احساس پروگرام کے دوران کوئی بھی سیاسی رہنماء کسی سنٹر کا دورہ نہیں کرے گا تاہم تحریک انصاف کے ایم پی اے میاں جمشید الدین کاکا نے خیل گورنمنٹ ہائی اسکول سمندر گڑھی میں قائم احساس ریلف پروگرام کا دورہ کیا جس پر اہل علاقہ میں تشویش کی یہ لہر بھی دوڑ گئی ہے کہ تحریک انصاف کے مقامی قائد نے پروگرام میں اپنے من پسند افراد کو شامل کیا ہے۔

خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے کورونا کی روک تھام کے حواے سے ہدایات اور احکاماات کی سب سے زیادہ خلاف ورزی نوشہرہ ہی میں سامنے آتی رہی ہیں، خلاف ورزی کرنے والوں میں سابق وزیراعلیٰ اور موجودہ وزیر دفاع پرویز خٹک بھی شامل ہیں۔

اسی طرح تیمرگرہ خال بازار میں بھی مکمل لاک ڈاون کی خلاف ورزی کرنے پر پانچ افراد کو گرفتار کرلیا جبکہ کئی ٹیکسی گاڑیوں کو پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا تو دوسری جانب ضلع خیبرکی تحصیل باڑہ میں ایس ایچ او شمشاد آفریدی نے کاررواٸی کرتے ہوٸے والی بال کھیلنے والے کھلاڑیوں اور تماشاٸیوں کی دوڑیں لگا دیں۔

نمائندہ ٹرائبل پریس کے مطابق باڑہ کے علاقے سپاہ عالم گودر میں والی بال کا میچ جاری تھا اور کھلاڑیوں کے علاوہ درجنوں تماشاٸی میچ دیکھ رہے تھے تاہم ایس ایچ او تھانہ باڑہ شمشادآفریدی اور ایس آٸی ثابت آفریدی نے دیگر پولیس اہلکاروں سمیت کارواٸی کرتے ہوٸے تمام کھلاڑیوں اور تماشاٸیوں کی دوڑیں لگوا دیں۔

اس موقع پر ایس ایچ او باڑہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوٸے کہا کہ ہمارے لوگ سوشل ڈسٹنسنگ کا خیال نہیں رکھتے جبکہ دوسری جانب کورونا واٸرس نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لیا ہے۔ انہوں نے باڑہ کے لوگوں کو پیغام دیتے ہوٸے کہا کہ کورونا وبا ٕ سے بچنے کیلٸے باڑہ کے لوگ تعاون کریں اور بغیر ضرورت کے گھروں سے نہ نکلیں۔