مومند باجوڑ حدبندی تنازعہ حل کی طرف گامزن

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

پانچ اپریل کو ضلع مومند سے باجوڑ کے جنوبی قصبے ناواگئی میں ایک قبائلی لشکر داخل ہوا اور پشاور باجوڑ ایکسپریس وے کو ہر قسم کے آمد و رفت کیلئے بند کر دیا اور یہ مطالبہ کیا کہ دربنو کے مقام پر ضلع باجوڑ کے چیک پوسٹ پر ضلع مومند کی لیوی کو تعینات کیا جائے۔

اس کے رد عمل میں ناواگئی کے تمام قبیلوں کے لوگ بھی احتجاجاً مومند کے لشکر سے پانچ سو میٹر کے فاصلے پر بیٹھ گئے اور دونوں اطراف کا احتجاج چھ دن تک جاری رہا اور روزانہ کی بنیاد پر ان میں شدت آتی رہی اور احتجاج طول پکڑتا گیا۔

وقتاً فوقتاً مومند اور باجوڑ کے ان دھرنوں میں دونوں اطراف کے قومی سیاسی مشران اور یوتھ تنظیمیں بھی شرکت کرتی رہیں۔ ان احتجاجوں نے بہت جلد ایک اشتعال انگیز صورتحال اختیار کر لی اور دونوں جانب سے لوگ ایک دوسرے کو جنگ کی دھمکیاں دینے لگے۔

باجوڑ اور مومند کا یہ سرحدی تنازعہ ایک تاریخی پس منظر رکھتا ہے اور ماضی میں اسی معاملے پر کئی لشکر کشیوں کے نتیجے میں بہت بڑی خون ریزیاں بھی ہوچکی ہیں اور موجودہ حالات میں بھی یہ صورتحال بہت گمبھیر صورت اختیار کرتی نظر آ رہی ہے۔

ماحول بنتا ھے تو پھر قبائل کے درمیان قبائلی تعصبات کو ہوا دینے کیلئے کچھ شرپسند بھی ایسے مواقعوں کے لئے تیار بیٹھے ہوتے ہیں اور اسی تاک میں رہتے ہیں کہ وہ نفرتوں کے بیج کس طرح بوئیں۔

اس تمام تر صورتحال میں حکومت کی خاموشی اور دفعہ 144 کے باوجود ہزاروں افراد کے ہجوم کو پرامن طور پر منتشر کرنے کیلئے اقدامات نہ کرنے پر بھی لوگوں کے ذہنوں میں بہت سے شکوک وشبہات جنم لے رہے ہیں۔

9 اپریل کو پیش آنے والے واقعات اور اس اشتعال انگیز ماحول میں باجوڑ کے ایک قومی مشر مولانا خانزیب کی ایک جذباتی تقریر نے اس علاقائی ایشو کو ایک قومی مسئلہ بنادیا، یہ سب اس کھیل کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔

مولانا خانزیب کی اس پرجوش مدلل اور قومی دکھ درد سے بھری تقریر نے مومند باجوڑ اور پختون قوم کو درپیش خطرات اور خدشات سے آگاہ کرکے بیدار کیا جس کی وجہ سے دھرنوں کا ماحول اچانک نفرت انگیز پیغامات کے بجائے امن ومحبت کی فضاء میں بدل گیا، حکومت خواب غفلت سے بیدار ہوئی، شاید اس لئے بھی اگر یہ سلسلہ مزید بڑھتا تو شائد اس گھناؤنے کھیل کے اصل کھلاڑیوں کے چہرے مزید بے نقاب ہو جاتے۔

اس پورے معاملے میں باجوڑ کے سیاسی قومی مشران اور مومند باجوڑ نوجوانوں کا کردار بھی نہایت قابل تحسین ھے جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اس خطے کے نوجوان اب باشعور ہوگئے ہیں، وہ دوست دشمن میں تمییز کرنا سیکھ چکے ہیں اور انہیں اس بات کا ادراک ہو چکا ہے کہ ان کے مسائل وہ نہیں جن میں ان کو الجھانے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے، اب یہ نوجوان جنگ تشدد اور قبائلی تعصبات سے بیزار ہو چکے ہیں اور کسی کا آلہ کار بننے کے بجائے اپنی حقیقی قومی مشکلات کا حل چاہتے ہیں۔

ساتھ ہی مومند اور باجوڑ کی انتظامی حدود کے اس چھوٹے سے مسئلے کو اس نہج تک پہنچانے سے ضم شدہ اضلاع کے حوالے سے کچھ ایسے سوالات پیدا ہو گئے ہیں جو اب جوابات کے متقاضی ہیں۔

1 ۔ ڈی پی او مومند نے کیونکر باجوڑ کی حدود میں مومند لیویز کی تعیناتی کے احکامات کیوں صادر کئے تھے جو اس سارے مسئلے کا سبب بنی؟

2۔ زمانوں سے پڑے دو اضلاع کی حدبندی کے اس اہم ایشو سے باجوڑ سے تعلق رکھنے والے سابق گورنر، ان کے خاندان کے دیگر عوامی نمائندوں اور باجوڑ کی انتظامیہ نے کیوں غفلت برتی ھے؟

3۔ دو اضلاع کے لشکر کئی دنوں سے آمنے سامنے مسلح بیٹھے تھے حکومتی رٹ کہاں تھی؟

4۔ دفعہ 144 اور کورونا وائرس جیسی ھنگامی حالت کے باوجود مومند اور باجوڑ میں لاک ڈاؤن کی ناکامی کا ذمہ دار کون ھے؟

5۔ انضمام کے بعد ریاستی رٹ اور قانون کی عملداری ابھی تک ایف سی آر کے دور کی طرح کیوں مبہم ھے؟

6۔ ضم اضلاع میں ابھی تک لینڈ ریفارمز کیلئے کیوں اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔

7۔ کیڈٹ کالج جیسے اہم منصوبے کو کس نے متنازعہ جگہ پر بنا کر ایک مستقل فساد کی بنیاد رکھی ھے؟

8۔ کیڈٹ کالج کے نام پر باجوڑ ناواگئی کی ترکھانڑی قوم کو کس نے اپنی جائیداد کے حق ملکیت سے محروم کیا ھے جبکہ ان کی ہزاروں کینال زمین قبضہ ہو گئی ھے مگر کسی نے ان کو پوچھا تک نہیں؟

آخری بات یہ کہ قبائلی تعصبات کا زمانہ گزر چکا ہے، اب ہمیں آگے بڑھنا ہے، اس کیلئے ان علاقوں کی بہبود و ترقی کی طرف ریاستی اداروں کی بھرپور توجہ درکارہے بصورت دیگر دوسرا کوئی بھی راستہ پسماندگی، جہالت، غربت اور بدامنی کی طرف جاتا ہے۔

واضح رہے کہ آج باجوڑ اور مہمند قبائل کے درمیان حدبندی تنازعے میں شدت کی اطلاعات آئی تھیں، ایک طرف باجوڑ سے پشاور جانے والی دو ایمبولینس ڈرائیوروں نے الزام لگایا کہ مہمند ضلع کے اندر ایک بھیڑ نے ان پر تشدد کیا اور گاڑی کے شیشے توڑ دیئے ہیں تو دوسری جانب مہمند اقوام نے تنازعے کے حل کے لئے سابقہ ایم این اے الحاج شاہ جی گل کو اختیارات دینے سے بھی انکار کیا ہے۔