جنوبی وزیرستان : تین ہزار چوبیس خاصہ دار پولیس میں ضم

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی ہدایت پر جنوبی وزیرستان کے تین ہزار سے زائد خاصہ داروں کو خیبر پختونخوا پولیس میں ضم کرنے کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات اجمل وزیر کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ سابقہ قبائلیوں کوخوشحالی اور قومی دھارے میں لانے کے لئے صوبائی حکومت نے خاصہ دار فورسز کو ریگولر پولیس میں ضم کرکے ان کی مایوسی اور شکوے کا ازالہ کردیا ہے۔

اجمل وزیر کے مطابق خیبر پختونخوا کے محکمہ داخلہ و قبائلی امور نے صوبائی کابینہ کی پیشگی منظوری اور صوبائی پولیس آفیسر کی سفارشات کی روشنی میں قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان کے خاصہ دار فورسز کے تقریباً تین ہزار چوبیس اہلکاروں کا صوبائی محکمہ پولیس میں انضمام کے حوالے سے احکامات کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذکورہ اہلکاروں کے سروسز خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2017 کے زیر اثر ہوں گے، نوٹیفکیشن کے مطابق وہ اہلکار جنہوں نے استعفیٰ دیا ہو یا کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے کی بنیاد پر معطل کیا گیا ہو، شامل نہیں ہوں گے۔

مشیر اطلاعات نے کہا کہ تمام اہلکاروں کی سروسز ریگولر اور دیگر مراعات کے اہل ہوں گے، اعلامیہ کے مطابق اہلکارو ں کی لازمی ٹریننگ اور سنیارٹی ”خاصہ دار فورس کا انضمام خیبرپختونخوا پولیس رولز 2019” کے مطابق ہوگا۔

اجمل وزیر نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے اپنے قبائلی بھائیو ں کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ حکومت قبائلی عوام کو زیادہ سے زیادہ مراعات دے کر ان کے مصائب کم کرنے کیلئے کوشاں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قبائلی عوام کی قربانیوں کا کوئی نعم البدل نہیں ہے تاہم ماضی میں ان کے ساتھ کی گئی ناانصافیوںکا ازالہ اور انہیں باعزت شہریوں کی طرح قومی دارے میں شامل کرکے صحیح پاکستانی بنانے اور ان پرخوشحالی کے دروازے کھو ل کر انہیں برابری کے حقوق دے رہے ہیں تاکہ ان کے زخموں کا مداوا ہو سکے۔

اجمل وزیر نے کہا کہ ان کی قربانیاں بے مثال ہیں ان کی قربانیوں نے قوم کو حوصلہ دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ قوم متحد رہا اور قبائلی اس قومی لشکر کا صف اول کا دستہ رہا۔