پشاور، سی سی پی او کیساتھ مختلف مکاتب فکر علماء کرام کا اجلاس

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

کپیٹل سٹی پولیس پشاور نے کرونا وائرس کی روک تھام اور عوامی آگاہی مہم کو مزید تیز کرنے کے فیصلے پر عمل در آمد کو یقینی بنانے کی خاطر مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام کے نمائندہ وفد کے ساتھ خصوصی اجلاس کا انعقاد کیا ہے.

اجلاس میں سی سی پی او محمد علی گنڈا پور کے علاوہ ایس ایس پی آپریشن، ایس ایس پی انوسٹی گیشن اور ایس پی سٹی سمیت مولانا حسین احمد ناظم وفاق المدارس، علامہ سید جمیل حسن، مولانا احسان الحق، مولانا حسین احمد مدنی ایڈووکیٹ، مولانا محمد طیب، مولانا بصیر شاہ، معراج الدین سرکانی اور مفتی لائیق احمد سمیت دیگر علماء حضرات نے شرکت کی.

اجلاس کے دوران سی سی پی او محمد علی گنڈا پور نے کرونا وائرس کی روک تھام اور عوامی آگاہی مہم کے سلسلہ میں علماء کرام کے کردار اور تعاون کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بھر پور سراہا۔

انہوں نے مسجد و منبر کی افادیت اور قدر و منزلت کو مسلمہ حقیقت قرار دیتے ہوئے جاری مہم میں علماء کرام سے تعاون جاری رکھنے کی بھی اپیل کی جبکہ اجلاس کے اختتام پر متفقہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔

جاری اعلامیہ کے مطابق علماء کرام و پولیس انتظامیہ کے نمائندوں پر مشتمل ڈویژنل سطح پر کمیٹیاں تشکیل دینے، پشاور بھر کے علماء کرام و عوام الناس سے اپیل کہ جمعۃ المبارک اور دیگر نمازوں میں حکومتی ہدایات/اکابر علماء کرام کی جانب سے تلقین کردہ تدابیر اپناتے ہوئے کم سے کم افراد کو مساجد میں شرکت کرنے اور نماز جمعہ میں صرف واجب خطبہ کے الفاظ پر اکتفا اور اختصار کے ساتھ نماز ادا کرنے کی خاطر پولیس اور علماء کرام کی جانب سے مشترکہ طور پر اپیل کی گئی ہے۔

علماء کرام نے سی سی پی او محمد علی گنڈا پور کو عوامی آگاہی مہم کے سلسلہ میں اٹھائے جانے والے اقدامات، تعاون اور اس ضمن میں علماء کرام کی جانب سے نمازیوں اور دیگر شہریوں کو دی جانے والی ترغیب سمیت علماء کرام کو درپیش مسائل و مشکلات سے بھی آگاہ کیا.

سی سی پی او محمد علی گنڈا پور نے درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے اور ان کے سدباب کی یقین دہانی کرائی جبکہ  اجلاس میں متفقہ اعلامیہ پر عمل درآمد کرنے کی خاطر علماء کرام و پولیس انتظامیہ کے نمائندوں پر مشتمل ڈویژنل (سٹی، کینٹ، رورل اور صدر ڈویژن) سطح پر کمیٹیاں تشکیل دینے پر بھی اتفاق کیا گیا.

علاوہ ازیں فیصلہ کیا گیا کہ اس وقت تمام مکاتب فکر کے علماء کرام حکومت کے ساتھ ایک صف میں کھڑے ہیں اور یہ تعاون گلی محلے کی سطح پر قائم کیا جائے گا۔