افغانستان میں ہزاروں پاکستانیوں کیلئے بھی بارڈر کھول دیا جائے

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

افغانستان میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سخت مشکلات سے دو چار ہیں جس طرح افغانیوں کیلئے چار روز بارڈر کھولا گیا اسی طرح افغانستان میں پھنسے ہزاروں پاکستانیوں کیلئے بھی بارڈر کھول دیا جائے تاکہ وہ بھی اپنے وطن جا سکیں۔

افغانستان میں پھنسے ہوئے شنواری قوم سے تعلق رکھنے والے یوسف بھیر نامی شخص نے سوشل میڈیا پر ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر نورالحق قادری، سینٹر تاج محمد آفریدی اور ممبر صوبائی اسمبلی شفیق شیر سمیت سیکورٹی کے اعلی حکام اور میڈیا نمائندگان سے اپیل کی کہ کورونا وائرس کی وجہ سے بارڈر بند ہونے سے افغانستان میں سینکڑوں شنواری اور آفریدی اقوام کے لوگ پھنس گئے ہیں جس میں زیادہ تر طلباء بھی ہیں جو کابل اور جلال آباد یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں۔

یوسف کے مطابق سرحد پار ڈرائیوار اور تاجر سمیت دوسرے مزدور بھی پھنس گئے ہیں جو اب سخت مشکلات سے دوچار ہیں کیونکہ یہاں بھی سب کچھ بند ہے جبکہ ان کے پاس خرچے کیلئے پیسے بھی ختم ہو گئے ہیں۔

یوسف بھیر اور ان کے دوسرے ساتھیوں نے کہا کہ پاکستان جانے کے بعد انہیں کوارنٹائن سنٹرز میں منتقل کیا جائے اور مکمل چیک اپ اور تسلی کے بعد انہیں گھر جانے دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان کے لئے کچھ نہیں کیا گیا تو وہ سینکڑوں کی تعداد میں بارڈر کی طرف جائیں گے اور زبردست احتجاج کریں گے کیونکہ وہ گزشتہ دو ہفتوں سے فریاد کر رہے ہیں لیکن حکومت پاکستان کے اعلی حکام کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔

خیال رہے کہ حکومت پاکستان نے 6 تا 9 اپریل پاک افغان بارڈرز طورخم اور چمن کھولے رکھنے کا اعلان کیا تھا، طورخم پر یومیہ ہزار افغان شہریوں کو چیکنگ کے بعد جانے دیا جاتا تھا تاہم بچوں، خواتین اور بیماروں سمیت افغانیوں کے رش، شدید موسم اور دیگر مسائل کی وجہ سے 7 اپریل کو ہزاروں افغانی بغیر چیکنگ کے افغانستان میں داخل ہو گئے۔

گذشتہ روز حکومت پاکستان نے افغانستان کے ساتھ یکطرفہ تجارت کی بحالی کا اعلان کیا جس کے بعد کل جمعہ 10 اپریل سے پاک افغان شاہراہ اور طورخم بارڈر ٹرانزٹ گاڑیوں کے لئے کھول دیئے جائیں گے, ذرائع کے مطابق سبزی اور پھلوں کی گاڑیوں کو جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔

خیال رہے کہ دوسری جانب افغانستان میں 12 سو کے قریب پاکستانی ڈرائیور اور کلینرز پھنسے ہوئے ہیں جو کافی دنوں سے حکومت سے امداد اور تعاون کی اپیل کر رہے ہیں تاہم تاحال ان کی شنوائی نہ ہو سکی۔