کورونا اپڈیٹس، مزید 577 افراد متاثر، تعداد 4004 ہو گئی

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 577 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 4004 ہو گئی ہے۔ قومی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 577 افراد کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آ گیا ہے، جس کے نتیجے میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 4004 ہو چکی ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں میں وائرس سے مزید 4 افراد جاں بحق ہو گئے، جس کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 54 ہو گئی اور 28 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ متاثرہ 429 افراد صحت یاب ہو گئے ہیں۔ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق پنجاب میں 2004، سندھ میں 932، خیبر پختونخوا میں 500، بلوچستان میں 202، گلگت بلتستان میں 211، اسلام آباد میں 83 جب کہ آزاد کشمیر میں کورونا کے 18 مریض ہیں۔ ملک بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران مزید 3088 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے جبکہ اب تک مجموعی طور پر 39 ہزار 183 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے دعویٰ کیا ہے کہ ماہ رواں ہی یومیہ بنیادوں پر 25 ہزار ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت یومیہ تین ہزار ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن اسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کم ہیں انہیں مزید وینٹی لیٹرز فراہم کریں گے۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ ہماری ترجیح ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 39 ہزار 500 حفاظتی کٹس صوبوں کو فراہم کردی ہیں۔ اسد عمرکا کہنا تھا کہ 9 اپریل سے براہ راست اسپتالوں کو حفاظتی سامان پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 9 اپریل سے احساس پروگرام کے تحت امداد کی فراہمی بھی شروع ہو جائے گی۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں 16 لاکھ خاندانوں کو 12 ہزار روپے کی امداد ملے گی۔ پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر اسدعمر نے عوام الناس سے اپیل کی کہ تمام افراد ہر قیمت پر احتیاطی تدابیر پہ عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن آئی سی یو میں ہیں۔

دوسری جانب کراچی میں تاجروں نے اعلان کیا ہے کہ وہ 15 اپریل سے اپنا کاروبار شروع کریں گے۔ آل سٹی تاجر اتحاد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 15 اپریل کو دکانیں کھول دیں گے، حکومت 15 اپریل کے بعد لاک ڈاؤن کا دورانیہ مزید نہ بڑھائے، اگر حکومت نے ہمیں روکا تو ہم وزیراعلی ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے۔

آل سٹی تاجر اتحاد کے رہنماؤں نے کہا کہ تاجر اور مزدور طبقہ کاروبار کی مزید بندش کا متحمل نہیں ہوسکتا، حفاظتی اقدامات اختیار کرتے ہوئے تجارتی مراکز اور بازار کھولنے کی اجازت دی جائے۔

تاجروں نے کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت حفاظتی اقدامات شروع کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ بازاروں میں سینیٹائزر واک تھرو گیٹ نصب کیے جائیں گے۔

دوسری طرف وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے نجی اسپتالوں کے مالکان اور سی ای اوز نے ملاقات کی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ مجھے اس جنگ میں آپ سب ماہرین کی رہنمائی اور مدد چاہیئے۔ ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق تمام نجی اسپتالوں کے مالکان اور معروف ڈاکٹرز نے وزیراعلیٰ سندھ کو لاک ڈاؤن مزید بڑھانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاؤن بڑھایا نہ گیا تو کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو گا اور سندھ سمیت ملک کا صحت کیئر نظام بیٹھ جائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اسپتال مالکان اور ڈاکٹرز کی تجویز پر مشاورت کرینگے۔

امریکی ڈالر پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں 167.90 روپے کا ہوگیا جس کے نتیجے میں بیرونی قرضوں میں 9 سو ارب روپے کا اضافہ ہوگیا۔ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر مزید 92 پیسے مہنگا ہوکر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر بند ہوا اور 167 روپے 90 پیسے کا ہوگیا۔

امریکی کرنسی کی قدر میں اضافے کے باعث بیرونی قرضوں کے بوجھ میں 900 ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہوگیا ہے۔ کورونا وائرس کے باعث ملک میں جاری لاک ڈاؤن کے دوران ڈالر اب تک 9 روپے 23 پیسے مہنگا ہو چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے گھریلو قرضوں اور اسٹاک مارکیٹوں سے قلیل مدتی سرمایہ کاری نکالنے سے روپے کی قدر میں گراوٹ آئی۔ سپریم کورٹ نے اسلام آباد اور سندھ ہائیکورٹ کے قیدیوں کی ضمانت کے فیصلے کالعدم کردیے ہیں۔

سپریم کورٹ میں قیدیوں کی ضمانت سے متعلق دائر درخواست پر سماعت ہوئی جس کو عدالت نے 184 (3) کے تحت قابل سماعت قرار دیتے ہوئے اسلام آباد اور سندھ ہائیکورٹ کے قیدیوں کی ضمانت کے فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا۔

سپریم کورٹ نے سنگین جرائم، نیب اور منشیات کے مقدمہ میں دی گئی ضمانتیں منسوخ کرتے ہوئے رہا کیے گئے تمام قیدیوں کو دو بارہ گرفتار کرنے کا بھی حکم دیا اور اٹارنی جنرل کی قیدیوں سے متعلق سفارشات کو تسلیم کرلیا۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس کے پیش نظر اسلام آباد، سندھ اور لاہور ہائیکورٹ نے صوبے بھر کی تمام جیلوں میں خواتین، کم عمر اور معمولی جرائم میں قید قیدیوں کی رہائی کا حکم جاری کیا تھا۔

علاوہ ازیں کوئٹہ میں گرفتار ڈاکٹرز نے اپنے مطالبات کی منظوری تک رہائی سے انکار کر دیا ہے۔ کورونا وائرس حفاظتی کٹس کی عدم دستیابی پر احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والے ڈاکٹرز نے رہائی سے انکار کردیا ہے۔ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے حفاظتی کٹس کی عدم دستیابی پر احتجاج کے دوران گرفتار ڈاکٹرز نے رہائی سے انکار کردیا ہے، ترجمان ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ینگ ڈاکٹرز نے رات تھانے میں گزاری ہے، جب تک مطالبات تسلیم نہیں ہوتے تھانوں میں ہی رہیں گے، حکومتی کمیٹی نے کل رات رابطہ کیا تھا تاہم کمیٹی کو پہلے تحقیقات کرنی چاہیے کہ ضلعی انتظامیہ نے کیوں تشدد کیا۔ دوسری جانب ترجمان بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ ہم نے ینگ ڈاکٹرز کو کل دوپہر کو ہی رہا کر دیا تھا، ڈاکٹرز اپنی مرضی سے تھانوں میں موجود ہیں، ڈاکٹرز سے گزارش ہے تھانہ چھوڑ کر گھر جائیں، ڈاکٹرز کو مزید اضافی کٹس فراہم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے لہذا ڈاکٹرز کو اب اپنا احتجاج رضا کارانہ طور پر ختم کرنا چاہیئے۔