کورونا وائرس : لوئر دیر میں 73 سالہ شخص زندگی کی بازی ہار گیا

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

لوئر دیر میں کورونا وائرس سے متاثر 73 سالہ شخص زندگی کی بازی ہار گیا جس کے ساتھ ضلع میں کورونا وائرس کے باعث جاں بحق ہونے والوں کی تعداد دو ہو گئی۔

کورونا وائرس کے فوکل پرسن ڈاکٹر ارشاد علی کے مطابق کوٹو سے تعلق رکھنے والے73سالہ شخص محمد داود کو 4اپریل کو ڈی ایچ کیو تیمرگرہ لایا گیا، ان کی حالت تشویشناک ہونے کی صورت میں ایل ار ایچ پشاور منتقل کیا گیا چونکہ ان کی ہسٹری ملک کے مختلف شہروں سے تھی اس وجہ سے مذکورہ شخص سے کورونا کے صواب لئے گئے۔

ڈاکٹر ارشاد علی کے مطابق پیر کی شام ان کی موت واقع ہوئی اور پیر ہی کے روز لیبارٹری سے ان کازرلٹ پازیٹو آیا ہے ، ان کی میت پشاور سے آبائی گاؤں کوٹو جاری ایس او پیز کی تحت منتقل کر دی گئی اور انھیں ضلعی انتظامیہ کی خصوصی انتظامات کی نگرانی میں دفنا دیا گیا۔

دریں اثناء ضلعی انتظامیہ نے ان کے گھر اور ساتھ محلہ کو مکمل طوپر لاک ڈاون کرکے قر نطینہ میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور ان اہل خانہ کو گھر سے باہر اور کسی کو گھر کے اندر جانے پر 14 دنوں کی مکمل پابندی عائد لر دی گئی ہے۔

محکمہ صحت کے مطابق مذکورہ جان بحق ہونے والے شخص سے جس جس نے ملاقات کی ہے اور یا ان سے جو ملے ہیں ان کا بھی صواب ٹیسٹ کیا جائے گا۔

دوسری جانب لوئر دیر میں ہی کورونا کے دو مزید مریض رپورٹ ہوئے ہیں جس کے ساتھ متاثرہ افراد کی تعداد 17 ہو گئی ہے۔ ڈاکٹر ارشاد علی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4 لیبارٹری رزلٹس موصول ہوئے جن میں دو مشتبہ مریضوں میں کورونا بیماری کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ دو مریضوں کے رپورٹ منفی آئے ہیں۔

خیال رہے کہ ضلع دیر پائین میں ابھی تک 95 مشتبہ مریض رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے 63 لیبارٹریز رزلٹ موصول ہوئے ہے۔ ان 63 میں سے 17 مریضوں میں کرونا بیماری کی تصدیق ہوچکی ہے اور 46 مریض کلیئر قرار دیئے گئے ہیں جبکہ 32 مریضوں کے لیبارٹری رپورٹ آنا باقی ہیں۔ اس کے علاوہ انٹری پوائنٹس اور ضلع کے اندر مختلف ٹیموں نے 901 افراد کو سکریننگ کے پراسس سے گزارا ہے جبکہ 88 گھروں کو قرطینہ میں تبدیل کیا گیا ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ 27 مارچ کو ضلع لوئر دیر سے کورونا وائرس کا پہلا کیس رپورٹ ہوا تھا، مریضہ کی کورونا سے مبینہ طور پر موت واقع ہوئی جس کے ساتھ صوبے میں کورونا وائرس کے باعث ہونے والی ہلاکتیں چار جبکہ ملک میں مجموعی طور پر دس ہو گئی تھیں۔

ساٹھ سالہ خاتون 15 مارچ کو عمرہ کرکے واپس آئی تھیں، 25 مارچ کو دل کی تکلیف کے باعث ایچ ایم سی پشاور داخل ہونے کے بعد اسی روز دوپہر کو فوت ہو گئی تھیں۔

بعدازاں جاں بحق ہونے والی خاتون کی دو بیٹیوں اور ایک بیٹے میں بھی وائرس کی تصدیق ہوئی جبکہ مزید 4 قریبی رشتہ داروں کے تجزیوں کے نتائج منفی آئے تھے۔

خاتون کے کرونا وائرس کی وجہ سے ہلاکت کے بعد 28 مارچ کو زیارت اور مدینہ آباد دیہات کو لاک ڈاون کردیا گیا جہاں کی آبادی مقامی انتظامیہ کے مطابق مجموعی طور پر دو ہزار افراد تک ہے۔

انتظامیہ نے ان گھروں کو قرنطینہ قرار دینے کے علاوہ 187 گھرانوں پر مشتمل دو دیہات کا بھی لاک ڈاون کر دیا لیکن محصورین شکوہ کناں تھے کہ انتظآمیہ نے ان  کے لئے اشیائے خورد و نوش کا کوئی بندوبست نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے کئی گھرانے مشکلات سے دوچار ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل آج خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس سے متاثر مزید 2 افراد دم توڑ گئے تھے۔

ضلع کرم  اور ضلع شانگلہ سے کورونا وائرس سے ہونے والی پہلی ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں، لوئر کرم کے علاقے ششو سے تعلق رکھنے والی خاتون پشاور کے ہسپتال میں جاں بحق ہو گئی تھی جبکہ شانگلہ میں بشام کے علاقے "میرہ” سے تعلق رکھنے والے مریض کا آج صبح انتقال ہوا تھا۔

واضح رہے کہ اس وقت دنیا بھر کے 184 ممالک سے 14 لاکھ سے زائد مصدقہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ 75 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

وطن عزیز میں آج 580 نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 4007 ہو گئی ہے جن میں سے 28 کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے، وباء کے باعث اب تک 55 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جن میں سے 19 کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔