افغان مہاجرین کو بارڈر کراس کرنے کی اجازت دی

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

حکومت پاکستان اور  افغان حکومت کی باہمی  بارڈر کراس پالسی میں نرمی کے بعد پھنسے افغان مہاجرین کو بارڈر کراس کرنے کی اجازت دی گئی۔ مقامی پولیس کے مطابق بارڈر پر کافی رش تھا اور پھنسے افغان مہاجرین میں زیادہ تر خواتین، بوڑھے، بچے اور مریض شامل تھے جس کی وجہ سے ان کو جانے دیا گیا۔

بارڈر پر پاک افغان حکام کے درمیان مشاورت کے بعد دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بغیر بارڈر کراس کرنے کی اجازت دی گئی، طورخم پر تعینات پولیس اہلکاروں کے مطابق ہزاروں افغان باشندوں کو پہلے مرحلے میں کنٹرول کرنا مشکل ہوگیا تھا اور زیادہ تر افغانوں نے چیخ و پکار اور رونا شروع کر دیا اور چلاتے رہے کہ ان کو جانے دیا جائے تاکہ وہ مزید خوار ہونے سے بچ سکیں۔

عینی شاہدین کے مطابق تعینات سیکیورٹی اہلکاروں نے ان کے ساتھ انتہائی اچھا برتاؤ کیا اور بہترین سیکیورٹی کے انتظامات کئے تاکہ منظم انداز میں سارے افغان ڈسپلن میں بارڈر تک جائیں اور بغیر کسی تکلیف کے سارے افغان بارڈر کراس کر سکیں۔

سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مقامی پولیس کے اہلکار بھی موجود تھے تاہم پھر بھی جگہ جگہ افغانوں کا بہت زیادہ رش دیکھنے کو ملا۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق افغان حکومت کی بارڈر کراس پالسی میں نرمی کے بعد پھنسے افغان مہاجرین کو بارڈر کراس کرنے کی اجازت دی گئی۔

مقامی پولیس کے مطابق بارڈر پر کافی رش تھا اور پھنسے افغان مہاجرین میں زیادہ تر خواتین، بوڑھے، بچے اور مریض شامل تھے جس کی وجہ سے ان کو جانے دیا گیا۔

بارڈر پر پاک افغان حکام کے درمیان مشاورت کے بعد دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بغیر بارڈر کراس کرنے کی اجازت دی گئی، طورخم پر تعینات پولیس اہلکاروں کے مطابق ہزاروں افغان باشندوں کو پہلے مرحلے میں کنٹرول کرنا مشکل ہوگیا تھا اور زیادہ تر افغانوں نے چیخ و پکار اور رونا شروع کر دیا اور چلاتے رہے کہ ان کو جانے دیا جائے تاکہ وہ مزید خوار ہونے سے بچ سکیں۔

عینی شاہدین کے مطابق تعینات سیکیورٹی اہلکاروں نے ان کے ساتھ انتہائی اچھا برتاؤ کیا اور بہترین سیکیورٹی کے انتظامات کئے تاکہ منظم انداز میں سارے افغان ڈسپلن میں بارڈر تک جائیں اور بغیر کسی تکلیف کے سارے افغان بارڈر کراس کر سکیں۔

سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مقامی پولیس کے اہلکار بھی موجود تھے تاہم پھر بھی جگہ جگہ افغانوں کا بہت زیادہ رش دیکھنے کو ملا۔