نیٹو کو ایندھن فراہم، چمن بارڈر کھولا جائے

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

الحاج انٹرپرائزز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹو کو ایندھن فراہم کرنے والے ٹرکوں کو افغانستان پہنچانے کے لیے چمن بارڈر کو کھولا جائے۔

اس حوالے سے الحاج انٹرپرائزز نے وزیراعظم عمران خان کے نام ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلنے کو روکنے کے لیے پاک افغان بارڈر کو بند کیا گیا ہے جس کی وجہ سے نیٹو کو ایندھن فراہم کرنے والے سینکڑوں ٹرک پچھلے ایک مہینے سے بارڈر پرکھڑے ہیں جس کی وجہ سے دہشت گرد حملوں کا خطرہ ہے۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستانی سکیورٹی ایجنسیز کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ نیٹو کو ایندھن فراہم کرنے والے ٹرکوں کو کم وقت کے لیے پاکستان میں کھڑا کیا جائے کیونکہ یہ آئل ٹینکر دہشت گردوں کے نشانے پرہوتے ہیں خاص طور پرجب یہ ایک ساتھ کھڑے ہو لیکن کورونا وائرس کی احتیاطی تدابیر کی وجہ سے یہ سارے ٹرک ایک ہی جگہ پر قریبا ایک مہینے سے کھڑے ہیں جس کی وجہ سے دہشت گردی کا خطرہ ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ان حالات کے پیش نظرحکومت سے درخواست کی جاتی ہے کہ چمن بارڈر کو کچھ وقت کے لیے کھولا جائے تاکہ تمام ٹرک اور آئل ٹینکرسرحد کے اس پار جاسکے تاکہ دہشت گرد حملوں کے اندیشے کو کم کیا جاسکے۔

خط میں استدعا کی گئی ہے بارڈر کے اس پارجتنے بھی پاکستانی خالی ٹرک ہیں ان کو پاکستان میں داخل ہونے دیا جائے کیونکہ وہ بھی پاکستانی ہیں اور ان کا بھی حق بنتا ہے کہ کورونا وائرس سے بچنے کے لیے وہ تمام تدابیر اختیار کریں جو باقی سب نے کی ہے۔

واضح رہے کہ حکومت نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم اور چمن بارڈر6 سے 9 اپریل تک کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستانی دفترخارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان نے افغان حکومت کی خصوصی درخواست اور انسانی ہمدردی پر چمن اور طورخم بارڈر کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

عائشہ صدیقی نے کہا کہ طورخم اور چمن بارڈر کو پاکستان میں موجود افغان شہریوں کی واپسی کے لیے کھولا جائے گا۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان کے عوام کے ساتھ یکجہتی کرتا ہے، پاکستان میں موجود افغان شہریوں کی واپسی کے لیے بارڈر کھلے گا۔

یاد رہے کہ 15 مارچ کو وزارت داخلہ نے طورخم سمیت افغانستان اور ایران کے ساتھ تمام مغربی بارڈر بند کرنے کے احکامات جاری کئے تھے۔ 21 مارچ کو چمن میں پاک افغان سرحد باب دوستی کو 20 روز بعد یک طرفہ تجارت کے لیے کھول دیا گیا تھا تاہم اگلے ہی روز یہ سرحد بھی دوبارہ بند کر دی گئی تھ