منگا مردان میں 19 دن بعد لاک ڈاؤن جزوی طور پر ختم

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

مردان ضلعی انتظامیہ نے کل ہونے اجلاس میں 19 دن بعد منگا میں جاری بندش کو جزوی طور پر ختم کر دیا ہے جس کے لئے تمام تر انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں، یونین کونسل منگا کے تقریباً 29 دیہات بنیادی صفائی ستھرائی کے بعد کھول دیئے جائیں گے۔

متاثرہ علاقے میں جراثیم کش سپرے کرنے کی مہم میں محکمہ ریسکیو ،1122 تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن ، واٹر سنیٹیشن سروسز کمپنی ،لو کل گورنمنٹ کے اہلکاروں نے حصہ لیا۔

متاثرہ علاقے منگا کے پہلے مرحلے میں 29 گاؤں کی ہر گلی، محلوں، مساجد، گھروں اور سڑکوں پر فائر بریگیڈ کے زریعے جراثیم کش سپرے، فیومیگیشن سپرے وغیرہ کیا گیا، گلی محلوں سے کچرہ اکٹھا کیا گیا جبکہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے لوگوں میں فیس ماسک بھی تقسیم کئے گئے۔

اس موقع پر علاقہ منگا کے فوکل پرسن ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر حضرت علی نے بتایا کہ ملک میں کرونا وائرس سے جاں بحق ہونے والے پہلے شخص سعادت خاں کا تعلق منگاہ سے تھا، منگا ملک کا واحد علاقہ تھا جو مکمل سیل کر دیا گیا تھا اور گزشتہ 19دنوں سے مکمل سیل ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز منگاہ کے علاقے سے این آئی ایچ اسلام آباد کے میڈیکل ٹیم کےلئے گئے 109 ٹیسٹ نیگٹیو آگئے جس پر ڈی سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ان علاقوں میں جراثیم کش سپرے کرنے کے بعد لوگوں کو گھروں سے باہر آنے کی اجازت دی جائے گی۔

ٹرائبل پریس کے ساتھ اس حوالے سے بات چیت کے دوران منگا کے رہائشی 70 سالہ ضمیر گل بابا کا کہنا تھا کہ آج ہم بہت خوش ہیں کہ انتظامیہ نے بہت احسن طریقے سے پورے علاقے کو کنٹرول کیا اور بے شک یہ مرحلہ کسی مشکل امتحان سے کم نہیں تھا، ہم مسجد نہیں جا سکتے تھے، رشتہ داروں سے ملنا محال تھا اور ہم صرف گھر کی چاردیواری میں محصور ہو کر رہ گئے تھے۔

یاد رہے کہ 18 مارچ کو کورونا وائرس کے باعث سعادت خان کی موت کے بعد منگا یونین کونسل کو مکمل طور سیل کر دیا گیا تھا۔

منگا مسلم آباد کا رہائشی سعادت خان 8 مارچ کو عمرہ کے سلسلے میں سعودی عرب سے وطن لوٹ کر آیا تھا۔ اس موقع پر تمام عزیزواقارب کےلئے دعوت کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں تقریباً 2000 لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔

پختون معاشرے میں یہ روایت برسوں سے چلی آ رہی ہے کہ جب بھی کوئی حج، عمرے یا تبلیغ سے لوٹ کر آتا ہے تو عوام برکت و ثواب کے لئے اس کے دیدار کے لئے جاتے ہیں تاکہ روحانی فیض حاصل کر سکیں، اس ساتھ لوگ مل جول میں فخر محسوس کرتے ہیں اور اس کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اسی خدشے کے تناظر میں مردان کے ضلعی انتظامیہ نے منگا کو سیل کر دیا تھا، چارسدہ سے مرادن جانے والی شاہراہ کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا، ہر قسم آنے جانے پر پابندی لگا دی گئی اور پورے علاقے کو کورانٹائن قرار دیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ مردان میں متاثرین کے لئے تیں مقامات عبد الولی خان یونیورسٹٰی، مردان میڈیکل کمپلکس اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں قرنطینہ مراکز قائم کئے گئے جہاں وائرس سے متاثرہ لوگوں کو رکھا گیا تھا۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق پورے ضلع میں 10965 لوگوں کی سکریننگ کی گئی، 553 مشتبہ مریضوں کے ٹیسٹ کئے گئے جن میں ابھی تک 87 کیسز پازیٹیو، 237 افراد کا ٹسٹ منفی رپورٹ ہوا ہے جبکہ 229 افراد کے نتائج ابھی آنا باقی ہیں۔

ضلعی انتظامیہ نے کورونا وائرس کے 198 مشتبہ لوگوں کو کورانٹائن میں نگرانی میں جبکہ 77 لوگوں کو علاج اور 4 مریضوں کو وینٹی لیٹر پر رکھا تھا، اب تک 35 افراد کو کورانٹائن پورا ہونے اور ٹسٹ نیگیٹیو آنے پر گھر بھیجا جا چکا ہے جبکہ 73 لوگوں کے آخری ٹسٹ بھیج دیئے گئے ہیں، رپورٹ آنے پر ان کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

ٹرائبل پریس کے ساتھ گفتگو میں ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر نیک محمد خان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ان علاقوں کہ عارضی طور پر کھول دیا گیا ہے، یہ وہ علاقے ہیں جہاں پر مشتبہ افراد کی تعداد بہت کم ہے، باقی علاقوں کو بھی مکمل چھان بین کے بعد 4، 5 دن میں کھول دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان علاقوں میں متاثرہ افراد کی تعداد بہت کم ہے اور ڈبلیو ایس ایس ایم اور ریسکیو 1122 پورے علاقے میں سپرے کرکے صاف کر رہی ہے۔

نیک محمد خان نے کہا کہ ان علاقوں کو اس مقصد کے لئے سیل کیا گیا تھا تاکہ کورونا وائرس کے پھیلاو کو روکا جا سکے اور الحمداللہ مردان انتظامیہ اس میں کافی حد تک کامیاب ہو چکی ہے لیکن خطرہ ابھی باقی ہے اور اختیاط کی اشد ضرورت ہے۔

ضلعی انتظامیہ نے متاثرہ لوگوں میں امدادی سامان تقسیم کرنے کے لئے مختلف کمیٹیاں بنائی ہیں جو کہ مستحق عوام میں امداد تقسیم کریں گی۔

ایک میڈیا رپورٹ میں ملتان سے تعلق رکھنے والے ماہر ارضیات و ماحولیات عطاء زیرک نے دعویٰ کیا ہے کہ دنیا میں کرونا وائرس اُن علاقوں میں زیادہ پھیلا جہاں سورج کی روشنی کی براہ راست رسائی نہیں تھی یا کم تھی اور اب جن جن ممالک میں سورج کی روشنی براہ راست پہنچ رہی ہے اُن ممالک میں کرونا وباء میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 10 اپریل اور دنیا بھر میں 23 اپریل کے بعد کرونا وائرس کے نئے کیسز آنا بند ہو جائیں گے یا نئے مریضوں میں انتہائی کمی آ جائے گی۔